فصل الخطاب فی مسالۃ فاتحۃ الکتاب

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 104 of 200

فصل الخطاب فی مسالۃ فاتحۃ الکتاب — Page 104

جواب ۴۔کل انبیاء و رُسل علیھم الصلوٰة والسلام کے اقوال قول نبی آخر الزمان خاتم الانبیاء صلعم کے سامنے قابل عمل اور حجّت نہیں بنتے۔بھلا علماء کے اقوال سامنا کریں ممکن ہی نہیں ؂ کبھی فروغ نہ پائیں گے پیش یار چراغ وہ شمس ایک طرف ایک طرف ہزار چراغ جواب ۵۔اکثر صحابہ کرام جیسے ترمذی نے بیان کیا وجوب قراءت فاتحہ خلف الامام کی طرف ہیں اور خاکسار نے ان کے اقوال بتفصیل بیان کر دیئے ہیں۔پس قول احناف بکراہت فاتحہ ان کے مقابلہ میں اگر خفگی نہ کرو تو۔۔۔۔۔۔ہو گا۔جواب ۶۔بخاری نے جزء القراءة میں کہا ہے قراءتِ فاتحہ خلف الامام پرمَالَاأُحْصٰى مِنَ التَّابِعِينَ وَأَهْلِ الْعِلْمِ { FR 5131 }؂ کا فتویٰ ہے۔بھلا ایک طرف مَالَا أَحْصٰى مِنَ التَّابِعِينَ وَأَهْلِ الْعِلْمِ ہوں اور ایک طرف ایک ابوحنیفہ رحمة اللہ جیسا تابعی (اگر مان لیں) ہو بتائو کس کو ترجیح دیں بایںکہ جمہوری کی طرف نصّ صریح بھی ہو۔جواب۷۔خود علماء حنفیہ استحسان قراءت فاتحة الکتاب خلف الامام کے قائل ہیں۔اگر علماء حنفیہ ہی کے قول پرچلتا ہے تو استحسان کا فتویٰ معاضد بالنَّص مع تطبیق موجود ہے۔امام الکلام میںہے۔یُقْرَءُ عِنْدَ سَکُوْتِ الْاِمَامِ عَمَلًا بِـحَدِیْثٍ لَاصَلوٰةَ اِلَّا بِقِرَآ ءَ ةِ فَاتِـحَةِ الْکِتَابِ وَبِالْاِنْصَاتِ { FR 5132 }؂ اور منہیّہ میں کہا ھذا اَشَدُّ المذاہب و اَصْفَی المشارب۔اَیْضًا فِیْہِ نُقِلَ عن شیخ الاسلام امام ائمة الأعلام فی العالم محی مراسم الدین بین الامم الماحی { FN 5131 }؂ بے شمار تابعین اور اہل علم۔(القراءة خلف الإمام للبخاري، بَابُ وُجُوبِ الْقِرَاءَةِ لِلْإِمَامِ وَالْمَأْمُومِ) { FN 5132 }؂ حدیث ’’فاتحہ الکتاب کی قراءت کے بغیر نماز نہیں‘‘ پر عمل کرتے ہوئے (مقتدی) امام کی رُکنے کے وقت (سورۂ فاتحہ) خاموشی سے پڑھ لے