فصل الخطاب فی مسالۃ فاتحۃ الکتاب — Page 103
فائدہ متعلقہ مسئلہ فاتحہ فتوحات سے ابن عربی نے کہا ہے۔العالم العاقل الأدیب مع اللہ لایناجیہ فی الصلوٰة الا بقراءة اُمّ القرآن فکان ھذا الحدیث (قسمت الصلوٰة بینی و بین عبدی) مفسّرًا لما تیسّر من القرآن، واذا ورد أمر مجمل من الشارع ثم ذکر الشارع وجھا خاصا مما یکون تفسیرًا لذلک المجمل کان الاولی عند الادباء من العلماء الوقوف عندہ { FR 5129 } اگرچہ عینی وغیرہ نے مَاتَیَسَّرَ کے مجمل کہنے پر کہا ہے اَلْقَوْلُ بِالْاِجْمَالِ مِنْ عَدْمِ مَعْرِفَةِ الْاُصُوْلِ { FR 5130 } اِلَّا ہم کو نقل کلام ابن عربی سے یہ غرض ہے کہ ابن عربی جیسے بھی اس اصل کے فہم سے ناواقف ہیں۔جواب۳۔رسول اللہ صلعم کی اطاعت حضرت حق سبحانہٗ تعالیٰ کی اطاعت ہے قال اللہ تَعَالٰی مَنْ یُّطِعِ الرَّسُوْلَ فَقَدْ اَطَاعَ اللہَ۔ترجمہ۔جس نے رسول اللہ صلعم کی اطاعت کی اس نے اللہ کی اطاعت کی کیوں نہ ہو مَایَنْطِقُ عَنِ الْھَوٰی اِنْ ھُوَ اِلَّاوَحْیٌ یُّوْحٰی۔پس حسب حدیث شریف جس نے فاتحہ پڑھ لی۔اس نے آیت فَاقْرَؤوْا پر عمل کر لیا۔{ FN 5129 } ایک سمجھ دار باادب عالم نماز میں اللہ تعالیٰ کے ساتھ مناجات امّ القرآن (یعنی سورۂ فاتحہ) کی قراءت سے ہی کرتا ہے۔پھر یہ حدیث کہ میں نے نماز اپنے اور اپنے بندے کے درمیان تقسیم کردی ہے، اس امر کی تفسیر ہے کہ قرآن میں سے جو میسر ہو (اسے پڑھو)۔اور جب شارع ؑ کی طرف سے کوئی حکم اجمالاً ملتا ہو، پھر شارعؑ ہی کسی خاص رُجحان کا ذکر کردے جو اُس مجمل اَمر کی وضاحت کررہا ہو تو باادب علماء کے نزدیک موقف اختیار کرنے کے لحاظ سے یہی فوقیت رکھتا ہے۔(ابن عربی فتوحات) { FN 5130 } اجمال کی بات کرنا اصول سے عدم واقفیت ہے۔