فصل الخطاب فی مسالۃ فاتحۃ الکتاب

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 102 of 200

فصل الخطاب فی مسالۃ فاتحۃ الکتاب — Page 102

اہل ِحدیث رسول صلعم کی بات کہتے ہیں۔میرا یہ جواب محی الدین ابن عربی کے اس جواب کی طرح ہے جو انہوں نے فتوحات میں فرمایا اور یہ وہی محی الدین ہیں جن کو بحرالعلوم حنفی نے خاتم الولایة مانا ہے۔فَصْلُ مِنْ اَوْلٰی بِالْاِمَامَةِ (ترجمہ امامت کے لئے کون بہتر ہے) قال رسول اللہ علیہ وسلم أقرأہم و قالت المالکیّة و الشافعیّة افقھہم لا أقرأ ھم فھذہ مسئلة خلاف بین رسول اللہ صلعم و بین المالکیّة و الشافعیّة و بقول رسول اللہ اقول و لاسیّما والنبی یقول فان کانوا فی القراءة سواءً فاعلمھم بالسنة ففرّق صلعم بین الفقیہ والقاری و اعطی الامامة للقاری مالم یتساویا فی القراء ة الی ان قال و ھو حدیث متّفق علیہ صحتہ و بہ قال ابوحنیفة و ھو الصحیح الذی یعول علیہ وأما التاویل المخالف للنص بان الأقرء فی ذلک الزمان کان افقہ فقد رد ھذا التأویل قولہ علیہ السلام فاعلمھم بالسنة و اعلم ان کلام اللہ لاینبغی ان یقدم علیہ شیء اصلًا۔{ FR 5128 } ؂ افسوس ہمارے تو حنفی بھی اس مسئلہ تقدیم اَقْرَأُ میں مخالف ہیں اور اعلم کی تقدیم ابوحنیفہ کا قول بتاتے ہیں۔{ FN 5128 }؂ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اُن میں سے جو (قرآن) زیادہ پڑھا ہو (وہ امامت کا حقدار ہے۔) مالکی اور شافعی کہتے ہیں: اُن میں سے (قرآن کی) زیادہ سمجھ بوجھ رکھنے والا(مراد ہے)، نہ کہ اُن میں سے زیادہ پڑھا ہوا۔پس اس مسئلہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور مالکیوں اور شافعیوں میں اختلاف ہے۔اور میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قول کے مطابق ہی کہتا ہوں۔بالخصوص یہ کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: اگر وہ (قرآن کے) پڑھنے میں برابر ہوں تو اُن میں سے جو سنت کا زیادہ علم رکھتا ہو (وہ زیادہ حقدار ہے)۔پس آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فقیہ اور قاری کے درمیان فرق کیا ہے۔اور امامت (کا حق) قاری کو دیا ہے جب تک کہ قراءت میں دو (شخص) برابر نہ ہوں۔اس بات تک کہ انہوں نے کہا: یہ حدیث متفق علیہ صحیح ہے۔اور امام ابوحنیفہ نے اس کے متعلق کہا ہے: یہ صحیح (روایت) ہے، جس پر بناء کی جاتی ہے۔اور اس نص کے مخالف یہ تشریح کرنا کہ اُس زمانہ میں سب سے زیادہ (قرآن) پڑھا ہوا ہی سب سے زیادہ سمجھ بوجھ رکھنے والا ہوتا تھا تو اس تشریح کو آپ علیہ السلام کا یہ قول ردّ کر چکا ہے کہ ’’پھر اُن میں سے جو سنت کا زیادہ علم رکھتا ہو‘‘۔اور جان لو کہ حقیقتًا کلام اللہ پر کسی اور چیز کو ترجیح دینا جائز نہیں۔(فتوحات محی الدین ابن العربی، فصل من أولی بالإمامة)