فصل الخطاب فی مسالۃ فاتحۃ الکتاب — Page 101
احمد‘ ابودائود میں۔اور عبادہ ؓسے ابوداؤد اور ترمذی میں بےجا ہے بام یار سے دعوٰیٔ ہمسری ممکن نہیں کہ یوں دُرِّمقصد تجھے ملے اپنی ذرا بساط تو اے آسمان دیکھ اس جنس کی تلاش میں اِک اِک دکان دیکھ اور نفی ذات حقیقت ہے ترک حقیقت باوجود امکان جائز نہیں۔اعرابی مُسِی فی الصلوٰة کی حدیث میں امام احمد۔ابوداؤد۔ابنِ حَبَّان میں ہے۔ثُمَّ اقْرَأْ بِأُمِّ الْقُرْآنِ { FR 5127 } علاوہ بریں مَاتَیَسَّرَ کا لفظ مجمل مبین ہے یا مطلق مقید یا مبہم مفسر یا مَاتَیَسَّرَسے مَازَادَ عَلَی الْفَاتِـحَة یا ماتیسّرغیرمستطع کے حق میں یا منسوخ ہے۔یاد رہے ان احتمالات کی ضرورت بھی اس وقت تھی جب حدیث مُسِی میں اُمُّ القرآن کا صریح لفظ نہ ہوتا یا ہمیں اور آپ کو نہ پہنچتا۔اور صریح فاتحہ خلف الامام پڑھنے کی حدیث عبادہ سے ابوداؤد اور ترمذی میں اور فَلَاتَقْرَؤُوْا بِشَیْءٍ مِّنَ الْقُرْآنِ اِذَا جھَرْتُ بِہٖ اِلَّا بِاُمِّ الْقُرْآنِ۔کچھ قرآن نہ پڑھو جب میں جَھْرًا پڑھوں مگر فاتحہ۔ابوداؤد۔نسائی۔دارقطنی میں۔اور دارقطنی نے کہاا س کے سب راوی ثقہ ہیں اور امام احمد اور بخاری نے جُزْءِ قِرَاءَت میں۔اور تصحیح کی اس کی بخاری۔ابنِ حَبَّان۔حاکم۔بیہقی نے۔محمد بن اسحاق کی روایت میں بیہقی اورابنِ حَبَّان نے تحدیث پر تصریح کی ہے اور اس کے تابع زید۔سعید۔عبد اللہ۔ابن جابر ہو چکے ہیں اوربا لتخصیص آہستہ فاتحة الکتاب خلف الامام پڑھنے کے منع پر کوئی صحیح صریح مرفوع حدیث نہیں اور حدیث مثبت فاتحہ بتصریح بخاری متواتر ہے۔اگر خبرِواحد ہی مان لیں تو خبرِواحد قطعی اور باعث یقین بھی ہوتی ہے۔تذکرہ راشد میں مولوی عبد الحی صاحب نے لکھا ہے خبرِواحد کی نسبت قطعیت کا انکار جہالت ہے اصول فقہ سے۔جواب ۲۔جب فاتحہ خلف الامام کا پڑھنا ثابت ہوا (دیکھو جواب اوّل) اور حنفیہ سے حسبِ فرمودہ جناب کراہت قراءت بلکہ فساد بالقراءت فاتحہ خلف الامام ثابت ہے۔پس اس مسئلہ میں آپ کے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے درمیان اختلاف ہوا۔راقم اور کل { FN 5127 } پھر تم امّ القرآن (یعنی سورۂ فاتحہ) پڑھو۔