فصل الخطاب فی مسالۃ فاتحۃ الکتاب — Page 100
حق کو ماننا معلوم۔اِلَّا بامتثال کنتم خیر امة اخرجت للناس بامتثال کنتم خیر امة اخرجت للناس { FR 5112 } اور حدیث الدین النصح { FR 5113 } گذارش کیا فقل ما یفیض اللہ من غیر سامع ففی الدہر من یرجی بہ الفوز ظافرًا { FR 5125 } تیرہواں اعتراض علماء حنفیہ نے امام کے پیچھے اَلْـحَمْدُ پڑھنے کو مکروہ فرمایا ہے۔جواب پہلا۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے ہر نماز میں فاتحہ کے پڑھنے کی تاکید فرمائی ہے۔مقتدی کی نماز ہو یا منفرد کی یا امام کی اس دعویٰ کے دلائل یہ ہیں۔فرمایا۔لَاصَلوٰةَ لِمَنْ لَّمْ یَقْرَأْ بِفَاتِـحَةِ الْکِتَابِ نماز ہی نہیں اس کی جس نے فاتحہ نہ پڑھی۔روایت کیا اس حدیث کو جماعت نے (منتقٰی) اور فرمایا لَاتَجْزِیُٔ صَلوٰةٌ لِمَنْ لَّمْ یَقْرَأْ بِفَاتِـحَةِ الْکِتَابِ کوئی نماز جائز نہیں اس کی جس نے فاتحة الکتاب نہ پڑھی۔روایت کیا اس کو دارقطنی نے اور کہا اسناد اس حدیث کا صحیح ہے۔اور اس کا مرفوع شاہد اِبْنِ خُزَیْـمَہ اور اِبْنِ حَبَّان وَغَیْرُہُمَا نے بیان کیا اور فرمایا لَاتُقْبَلُ صَلوٰةٌ لَایُقْرَأُ فِیْھَا بِاُمِّ الْقُرْآنِ۔وہ نماز ہی قبول نہیں جس میں اُمُّ الْقُرْآن نہیں پڑھا گیا اور یہ حدیث انسؓ سے مسلم اور ترمذی میں اورا بوقتادہؓ سے ابوداؤد اور نسائی میں۔عبد اللہؓ سے ابن ماجہؓ میں اور ابوسعید سے احمد و ابوداؤد و ابن ماجہ میں۔ابودرداء سے نسائی‘ ابن ماجہ میں۔اور جابر سے ابن ماجہ میں۔علیؓ سے بیھقی میں اور عائشہ صدیقہؓ سے مسند احمد‘ ابن ماجہ میں اور ابوہریرہؓ سے { FN 5112 } سوا اس پیروی کے کہ تم بہترین امت ہو جو لوگوں کے (فائدہ کے) لیے بنائی گئی ہے۔{ FN 5113 } دین تو خیرخواہی ہے۔{ FN 5125 } پس نہ سننے والے کو کم ہی اللہ تعالیٰ نے (حق کی طرف) لوٹایا ہے اور دُنیا میں جو بھی کامیابی کی خواہش رکھتا ہے کامیاب ہوجاتا ہے۔