فصل الخطاب فی مسالۃ فاتحۃ الکتاب

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 185 of 200

فصل الخطاب فی مسالۃ فاتحۃ الکتاب — Page 185

ابن عیاش لَا اَصْلَ لَهٗ۔{ FR 5509 }؂ دوئم۔عینی نے بیہقی سے روایت کیا کہ مجاہد کی روایت (ابن عیاش والی) ربیع لیث طاؤس‘ سالم ‘نافع ‘ابوالزبیر ‘محارب بن د ثار جیسے ثقوں کے خلاف ہے یہ ثقہ لوگ ابن عمر سے اس رفعِ یدَین کا کرنا نقل کرتے ہیں۔سیوم۔ابن عمر سے مسند احمد میں مروی ہے انہ اذا رَأَی (ابن عمر) مصلیا لم یرفع حَصَیَہٗ { FR 5510 }؂ اور بخاری نے جزء الرفع(قرّة العینین برفع الیدین فی الصلاة) میں کہا۔رماہ بالحصٰی۔{ FR 5511 }؂ بھلا جو شخص یہ تشدد کرے کہ رفع یدین نہ کرنے پر پتھر مارے وہ خو دنہ کرے۔چہارم۔بخاری نے جزو میں فرمایا ہےلَمْ يَثْبُتْ عَنْ أَحَدٍ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهٗ لَمْ يَرْفَعْ۔{ FR 5512 }؂ پنجم۔ناسخ کو منسوخ کے مساوی ہونا چاہئے۔یہاں ایک طرف ابن عمر کا معلول اور بے اصل اثر دوسری طرف ابن عمر سے صحیح ثابت اثر بلکہ مرفوع روایت اور بیہقی کی حدیث جناب ابوبکر سے اور دارقطنی کی عمرؓ سے بلکہ پچاس صحابہ کی روایت اور بیہقی کی وہ روایت جس میں فَمَا زَالَتْ تِلْكَ صَلَاتُهٗ حَتّٰى لَقِيَ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ { FR 5513 }؂ موجود ہے۔اور سیوطی کا اس حدیث کو ازھار میں احادیث متواتر سے شمار کرنا۔ششم۔مانا کہ ابن عمر سے عدم رفع ثابت ہے پھر کیا غیر معصوم پر صرف یہ حسنِ ظن کر { FN 5509 }؂ ابن عیاش کی وجہ سے یہ روایت مشکوک ہے، اس کی کوئی اصل نہیں۔{ FN 5510 }؂ جب (حضرت ابن عمرؓ ) کسی کو نماز پڑھتا دیکھتے کہ وہ رفع یدین نہیں کررہا تو اُسے کنکر مارتے۔(التلخیص الحبیر، کتاب الصلاة، باب صفة الصلاة) { FN 5511 } ؂ وہ اُسے کنکر مارتے۔(التلخیص الحبیر، کتاب الصلاة، باب صفة الصلاة) { FN 5512 }؂ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ میں سے کسی کے متعلق یہ ثابت نہیں ہے کہ اُس نے رفع یدین نہیں کیا۔(التلخیص الحبیر، کتاب الصلاة، باب صفة الصلاة) { FN 5513 }؂ اور آپؐ کی نماز یہی رہی ، یہاں تک کہ آپؐ اللہ عزوجل سے جاملے۔(معرفة السنن والآثار للبیھقی، کتاب الصلاة، التَّكْبِيرُ لِلرُّكُوعِ وَغَيْرِهِ)