فصل الخطاب فی مسالۃ فاتحۃ الکتاب — Page 150
مدلّس ہے ابن حبان نے کہا ہے اس کے سارے طریقے معلول ہیں۔ابن ابی حاتم نے کہا لااصل لہذا الحدیث۔{ FR 5288 } پھر دارقطنی اور ابن ابی حاتم نے کہا صرف اتنا متن مَنْ اَدْرَکَ مِنَ الصَّلوٰةِ رَکْعَةً فَقَدْ اَدْرَکَھَا۔{ FR 5287 } صحیح ہے۔صحیح متن ہمارے خلاف نہیں اس کے ایک اور طریقہ میں یحییٰ بن راشد ہے اور وہ ضعیف ہے۔دارقطنی نے کہا اس کی حدیث محفوظ نہیںاور ایک اور طریقہ میں ابن قیس متروک ہے۔ابن عمر سے ابن حباّن کی روایت میں ابراہیم منکر الحدیث ہے۔اوھیثم بڑا مدلّس ہے۔تمام ہوا تلخیص الجیر کا خلاصہ۔اور تلخیص میرے پاس اللہ کے فضل سے موجود ہے۔علاوہ بریں ابن عمر کی روایت میں مَنْ اَدْرَکَ رَکْعَةً ہے اور وہ ہمارے خلاف نہیں۔۲جواب۔ابوہریرہ کی یہ حدیث حقیقت میں یہ حدیث ہے إِذَا أَدْرَكَ أَحَدُكُمْ رَكْعَتَيْنِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ فَقَدْ أَدْرَكَ الْجُمُعَةَ، وَإِذَا أَدْرَكَ رَكْعَةً فَلْيَرْكَعْ إِلَيْهَا أُخْرٰى۔{ FR 4775 } اس روایت میں رکوع کے بدلے رکعت کا لفظ موجود ہے اگرچہ یہ روایت بھی سلیمان جیسے متروک اور صالح جیسے ضعیف سے مروی ہے۔اِلاَّ جس کے معارضہ میں ہے وہ اس سے بھی ضعیف ہے۔جواب۳۔جمعہ کی تقیید آپ کی تقریب کو تام نہیں ہونے دیتی۔جواب۴۔راوی کا عمل اپنی روایت کے خلاف ہے اور حنفیہ کے اصول میں ہے کہ راوی کا عمل اگر اس کی روایت کے خلاف ہو تو راوی کی روایت قابل حجت نہیں کیونکہ اگر روایت حجت تھی تو راوی آپ خلاف نہ کرتا۔یاد رکھو یہ اصل ہم لوگ صحیح نہیں مانتے کیونکہ ممکن ہے راوی کو اپنی روایت ایک وقت بھول گئی۔ممکن ہے خطا کر گیا۔ممکن ہے روایت عزیمت تھی۔راوی نے رخصت پر عمل کیا یا روایت رخصت تھی راوی نے عزیمت پر عمل کیا وغیرہ وغیرہ وغیرہ۔{ FN 5288 } اس حدیث کی کوئی بنیاد نہیں ہے۔{ FN 5287 } جس نے نماز (باجماعت )کی ایک رکعت پالی تو اس نے نماز کو پا لیا۔{ FN 4775 } جب تم میں سے کوئی جمعہ کے دن دونوں رکعتیں پالے تو اُس نے جمعہ پالیا اور جب ایک رکعت پائے تو اس کے ساتھ دوسری پڑھ لے۔(المعجم الأوسط للطبرانی، باب المیم، من اسمه مطلب)