فصل الخطاب فی مسالۃ فاتحۃ الکتاب — Page 105
بسطوتہ سیاط البدع و آثار الظلم السعید الشہید نظام الملة والدین عبد الرحیم المشہور بین الأنام بشیخ التسلیم وھو مجتہد فی مذھب ابی حنیفة باتفاق علماء ما وراء النہر وخراسان انه کان یقول یستحب للاحتیاط فیما یُروی عن محمدٍ ویعمل بذلک ویقول لو کان فی فمی جمرة یوم القیمة احبّ الیّ من أن یُّقال لاصلاة لک۔{ FR 4680 } ا ور مجتبٰی مختصر قدوری کی شرح میں ہے۔فی شرح الکافی للبزدوی ان القراءة خلف الامام علی سبیل الاحتیاط حسن عند محمدٍ۔وقال ایضًا ان قراءة الفاتحة مستحسنة و مستحبة فی السریة مکروہ فی الجہریة فی روایةٍ عن محمدٍ کما ذکرہ صاحب الہدایة و الذخیرة و غیرھما و ھو روایة عن ابی حنیفة کما ذکرہ الزاھدی فی المجتبی۔و ھو الذی اختارہ ابوحفص و شیخ التسلیم کما مرّ ذکرہ بل جماعة من الحنفیة و الصوفیة کما قال صاحب التفسیر الاحمدی و قال ایضًا اذًا ظھر حق الظھور ان اقوی المسالک التی سلک علیھا اصحابنا استحسان القراءة فی السریة کما ھو روایة عن محمد بن الحسن و اختارھا جماعة من فقہاء الزمن وھو وإن کان ضعیف روایة لکنہ قوی درایةً۔وقال ایضًا وما أحسن قول صاحب تنویر العینین فی رفع الیدین فی بحث القراءة خلف الامام دلائل { FN 4680 } یہ (عقیدہ) مسالک میں سردار اور رُجحانات میں پسندیدہ ہے۔نیز اس میں شیخ الاسلام، دُنیا کے مشہور اماموں کے امام، قوموں کے مابین دین کی روایات کو زندہ کرنے والے، اپنے اثرورسوخ سے بدعات کی ملونی اور ظلمت کے نقوش کو مٹانے والے، خوش بخت شہید، قوم ومذہب کے منتظم عبد الرحیم جو عوام میں شیخ التسلیم کے لقب سے مشہور ہیں اور وسط ایشیا اور خراسان وغیرہ ممالک کے علماء کی متفقہ رائے میں وہ امام ابوحنیفہ کے مسلک کے مجتہد ہیں، سے نقل کیا گیا ہے کہ وہ کہا کرتے تھے : جو کچھ محمد (بن اسحاق) سے مروی ہے اُس میں احتیاط واجب ہے اور (ان سے حضرت عبادہؓ والی) اس (روایت) پر عمل کیا جاتا ہے۔اور وہ کہتے تھے کہ اگر قیامت کے دن میرے منہ میں انگارہ ہو تو یہ مجھے اس بات سے زیادہ پسندیدہ ہے کہ کہا جائے کہ تیری کوئی نماز نہیں۔