فیشن پرستی

by Other Authors

Page 4 of 30

فیشن پرستی — Page 4

اندھی تقلید : جب بھی کوئی نیا فیشن آتا یا رسم و رواج جنم لیتا ہے تو بے سوچے سمجھے اندھا دھند اس کی تقلید شروع ہو جاتی ہے اور دیکھتے ہی دیکھتے سارا معاشرہ اس کی لپیٹ میں آجاتا ہے اور شرم و حیا کے تمام پردے چاک ہو جاتے ہیں۔حضرت مصلح موعودا اپنی نا پسندیدگی اور اس کے سد باب کا ذکر کرتے ہوئے مردوں کے ایک خطاب میں جو عورتوں کے لئے بھی یکساں مفید ہے فرماتے ہیں۔”میرے نزدیک ہمیں زیادہ توجہ جس طرف دینی چاہئے وہ تعلیم ہے اور وہ بھی مذہبی تعلیم۔یہی تعلیم ہماری اولا د کے ہوش وحواس قائم رکھ سکتی ہے۔میں تو نو جوانوں کی موجودہ تر کو دیکھ کر ایسا بد دل ہوں کہ چاہتا ہوں یورپ کی ہر چیز کو بدل دیا جائے۔ہمارے ملک کے لوگ اس طرح دیوانہ وار یورپ کی تقلید کر رہے ہیں کہ اسے دیکھ کر شرم و ندامت سے سر جھک جاتا ہے۔۔۔غرض یورپ کی تقلید میں لوگ بالکل اندھے ہورہے ہیں۔ہمیں نہ صرف اپنے آپ کو بلکہ دوسروں کو بھی بچانے کے لئے یہ کوشش کرنی چاہئے کہ لوگوں کو محسوس کرائیں۔ہمارا تمدن ناقص اور کمزور نہیں۔نقص یہ ہے کہ اس کا استعمال درست طور پر نہیں کیا گیا۔پس ہم نے اپنے تمدن کو غلط طور پر استعمال کر کے نقائص پیدا کر لئے ہیں ورنہ اس میں نقص نہیں۔“ الازھار لذوات الخمار مطبوعہ 2008 انڈ یا صفحہ 213) 4