فیشن پرستی — Page 3
فیشن پرستی اور اس کی اندھا دھند تقلید بھی نفسانی امور اور نفسانی اغراض سے ہی جنم لیتی ہے اور ان کا حصہ ہے۔تو گویا فیشن پرستی انسان اور معاشرے کو تباہ کر دیتی ہے۔حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ حدیث من تشبه بقوم کی تشریح میں فرماتے ہیں: یہ وہ زمانہ ہے جس میں عیسائیت نے اگر دلوں کو کا فرنہیں بنایا تو اس نے انسانی چہروں کو ضرور کا فر بنا دیا ہے اور بہت سے نوجوان اس مرض میں مبتلاء ہیں کہ وہ مغربی تہذیب اور مغربی تمدن کے دلدادہ ہو رہے ہیں وہ اپنے سروں کے بال ، اپنی داڑھیوں اور اپنے لباس میں مغرب کی نقل کرنا ضروری سمجھتے ہیں۔نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ان کی شکل کا فروں والی بن جاتی ہے۔اور رسول کریم ﷺ فرماتے ہیں مَنْ تَشَبَّهَ بِقَوْمٍ فَهُوَ مِنْهُمْ۔جوشخص اپنی ظاہری شکل کسی اور قوم کی طرح رکھتا ہے وہ ہم میں سے نہیں۔یعنی جب ہم کسی کو دیکھیں گے کہ اس کی شکل ہندوؤں سے ملتی ہے یا عیسائیوں سے ملتی ہے تو ہمیں اس پر اعتبار نہیں آئے گا۔اور ہم سمجھیں گے کہ یہ بھی انہی سے ملا ہوا ہے۔اور جب ہمیں اعتبار نہیں آئے گا تو یہ لازمی بات ہے کہ کوئی ذمہ داری کا کام اس کے سپر نہیں کیا جائے گا۔اور اس طرح وہ نیکی کے بہت سے کاموں سے محروم ہو جائے گا۔پس میں نو جوانوں سے کہتا ہوں کہ وہ مومن دل اور مومن شکل بنائیں اور مغربیت کی تقلید کو چھوڑ دیں۔میں نے پچھلے سال بھی بتایا تھا کہ تمہارا کام یہ ہے کہ تم مغربی تہذیب کو تباہ کر دو اور اس کی بجائے اسلام کی تعلیم ، اسلام کے اخلاق ، اسلام کی تہذیب اور اسلام کے تمدن کو قائم کرو۔“ مشعل راه جلد اول مطبوعه اکتوبر 2006 انڈیا صفحہ 339-338) 3