فیشن پرستی — Page 10
ٹوپی اتارنے میں نہیں ہاں اگر کسی کے پاس ٹوپی نہ ہو تو وہ ننگے سر بھی مسجد میں نماز کے لئے جاسکتا ہے جس طرح یہ مغربیت ہوگی کہ کسی کے پاس ٹوپی ہو اور وہ پھر بھی اسے نہ پہنے اور ہر وقت بالوں کی مانگ نکالنے ، تیل ملنے اور سکھی کرنے میں ہی مصروف رہے۔“ ایک جگہ آپ فرماتے ہیں کہ : نگے سر پھر نا آوارگی کی علامت ہے۔“ نا 66 (مشعل راه جلد اول صفحه 340) حضرت خلیفہ اسیح الرابع رحمہ اللہ نے اس سلسلہ میں فرمایا : احمدی نوجوانوں کو ہمیشہ ٹوپی پہننے کی عادت ڈالنی چاہئے اور یہ بات اپنے شعار میں داخل کرنی چاہئے۔“ جسمانی حسن کی نمائش (مشعل راه جلد سوم 94-93) یہ بھی مردوں اور عورتوں کی یکساں بیماری اور کمزوری ہے۔اس کے بارہ میں حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: اسلام جسمانی حسن کی زیادہ نمائش پسند نہیں کرتا کیونکہ اس طرح کئی قسم کی بدیاں پیدا ہو جاتی ہیں۔لیکن اسلام یہ بھی پسند نہیں کرتا کہ کوئی ننگے بدن پھرنے لگ جائے کیونکہ ننگے بدن پھر نا بھی کئی قسم کی بدیاں پیدا کرنے کا موجب بن جاتا ہے۔نیز فرمایا: (مشعل راه جلد اول صفحه 340) ” مرد کا حسن اس کے بناؤ سنگھار میں نہیں بلکہ اس کی طاقت اور کام 10