فصل الخطاب لمقدمۃ اہل الکتاب

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 82 of 455

فصل الخطاب لمقدمۃ اہل الکتاب — Page 82

تصدیق مقصود ہے۔اپنی ابتدائی حالت میں بدوں یقین کامل ایسے دعوے کی جرأت ہو سکتی ہے۔جو آیت مذکورہ یعنی لئن اجتمعت الجز میں کیا گیا ہے۔دوسرا معجزه یا خرق عادت بلکہ آیت نبوت بدر کی لڑائی ہے۔یادر ہے اس جنگ میں چھوٹے سو گروہ کا بڑے گروہ پرفتحیاب ہونا معجزہ اور خرق عادت یا برہان نبوت نہیں۔بلکہ یہ جنگ اسلئے آیت ہو کہ رسول اللّہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کفار کی شکست ہو اُن پر آپ کی مخالفت سے وبال آنے کی خبر دی تھی اور کہ دیا تھا۔مخالف ! تمہاری فنا کا ابتدائی زمانہ سال بھر کے بعد شروع ہونے والا ہے۔جب میں مکے سے چلا جاؤنگا۔اسکے ایک سال بعد تمپر ہلاکت آویگی۔اور یہی خبر سابقہ کتب مقدسہ میں درج تھی۔پس یہ جنگ سابقہ کتب کی تصدیق تھی۔اور اس جنگ میں فتحیابی کے باعث آنحضرت صلعم مصدق کتب مقدسہ ہوئے۔اسی واسطے قرآن جنگ بدر کو آیت کہتا ہے۔یہاں لکھتا ہے۔قَد كَانَ لَكُمْ آيَةٌ فِي نِتَيْنِ الْتَقَتَا- وَإِن كَادُ و لَيَسْتَفِرُ ونَكَ مِنَ الْأَرْضِ لِيُخرجُوكَ مِنْهَا وَ إذ الا يلبتُونَ خلافك إلا قليلا - سورہ بنی اسرائیل - سیپاره ۱۵۰ - رکوع ۸ - جب کفار نے پوچھا۔اچھا کب ہم پہ ہلاکت شروع ہوگی۔تو آپنے بلکہ آپکے خدا نے فرمایا۔لُ لَكُمْ مِيعَادُ يَومٍ لا تَسْتَأْخِرُونَ عَنْهُ سَاعَةً وَلَا تَسْتَقْدِمُونَ سوره سبا ياره یوم کا لفظ اگر بدوں منتیج اور ہنسا کے ہو تو نبوت میں ایک برس کا بھی ہوتا ہے اندرونه بمبیل صفحه ۵۹ و ۱۳۳ - ے بیشک تمہارے لئے نشان تھا۔دوگروہوں کی بھیڑیں ( بدر کی لڑائی۔- للہ یقینا یہ لوگ ( اہل مکہ تجھے (محمد صلعم) اس زمین کے سے نکال ڈالنے والے ہیں۔مگر تیرے بعد یہ لوگ بھی تھوڑی ہی دیر بعد رہیں گے یا سکے تو کہہ تمہارے واسطے ایک سال کی میعاد ہے۔اس سے ایک ساخت ادھر ادھر نہ کر سکو گے ہیں تو دوسرا معجزه