فصل الخطاب لمقدمۃ اہل الکتاب — Page 81
시 پہلا متجردة اول نمبر پر ہے۔قرآنی معجزے یا خرق عادت بنگہ آیات نبوت یعنی وہ آیات جن کا ذکر قرآن میں ہے۔اول - إِن كُنتُمْ فِي رَيْبٍ مِمَّا نَزَلْنَا عَلَى عَبْدِنَا فَأْتُوا بِسُورَةٍ مِنْ مِثْلِهِ وَ ادْعُوا شُهَدَاءكُم مِّن دُونِ اللَّهِ إِن كُنتُمْ صَدِقِينَ فَإِن لَّمْ تَفْعَلُوا وَلَن تَفْعَلُوا فَاتَّقُوا النَّارَ - سُوره بقر - سیپاره ۱ - رکوع ۳ - قُل لَئِنِ اجْتَمَعَتِ الإِنسُ وَالْجِنَّ عَلَى أَنْ يَأْتُوا بِمِثْلِ هَذَا الْقُرْآنِ لا يَأْتُونَ بِمِثْلِهِ - وَلَوْ كَانَ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ ظهير - سورة بنی اسرائیل سیپاره ۱۵ ایک اتنی (بلکہ فرض کرو اہل کتاب کا بقول نصاری شاگرد) یہ دعوئی کرے اور کوئی مخالف تکذیب نہ کر سکے معجزہ نہیں تو کیا ہے۔ہم نے مانا کہ ہومر من شکسپیر بالمیک- حافظ وغیرہ بے نظیر کلام کہے گئے مگر گیا انہوں نے ایسا دعوی کیا۔اگر دعوی کے بعد اور ایسے زبر دست دعوئی کے بعد امتحان میں کامیاب نکلتے۔تو ان کا کلام بے ریب ممتنع النظیراور مجھ سمجھا جاتا۔عام لوگ عربی دان تو اس بے نظیری پیر علم الیقین کر سکتے ہیں۔اور جاہل الروج کہ وہ جانتے ہیں۔تیرہ سو برس گزر چکے یہ دعوئی اپنی راستی پر بدستور محکم ہو حضرت رسالتی آپ نے قرآن کریم کے بے نظیر ہونے کا بارہا ذکر فرمایا۔مکتے ہیں سورہ یونس اور سورہ ہود اور سورہ طور میں۔پھر مدینے میں اس دھونے کا اعادہ کیا۔سورۂ بقر میں منصفو اذرا حدیث کی عربی اور قرآن کی عربی غور کرو۔صاف معلوم ہوتا ہو کہ محمد صاحب بھی اسکے مثل سے عاجز ہیں۔آپ کے کامل درجے کے عقیل ہونے میں کسی کو کلام نہیں۔بھلا منصفو غور کرو۔ایک انا اسکو دنیا میں اپنی اگر تم شک میں ہو اس کلام سے جوا تارا ہم نے اپنے بندے پر لیس لے آؤ ایک سورت اس قسم کی اور بلا تو تین کو حاضر کرتے ہو اللہ کے سوا اگر سچے ہو۔پس اگر نہ کرو اور البتہ نہ کر سکو گے تو بچے آگ سے ۱۲ تان کی اگر جمع ہوں میں آدمی اور جن اسیر کہا میں ایسا قرآن نہلا دینگے ایسا قرآن اور پڑ سے مدد کریں ایک کی ایک ا