فصل الخطاب لمقدمۃ اہل الکتاب

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 48 of 455

فصل الخطاب لمقدمۃ اہل الکتاب — Page 48

ما تھار کھے۔حضور کے غریب نوکروں کیلئے نذر ہے۔یہی مجملا حقیقت نماز اور زکواتی ہے۔عاشقانہ نیاز میں ضرور ہو۔عاشق اپنے محبوب کے سامنے عشق میں بھوک اور پیاس بھی دیکھے۔نہایت درجے کے اُس عزیز کو بھی جسکی نسبت لکھا ہے۔انسان ماں باپ چھوڑ کر اُس سے متحد اور ایک جسم ہوگا کچھ دیر کیلئے ترک کرے۔اور جہاں یقینی طور پر سن لیا ہو کہ میرے محبوب کی عنایات اور توجہات کا مقام ہر وہاں دور تا گود نا س کے عمامے اور ٹوپی سے بے خبر پہنچے۔پروانہ وار وہاں فدا ہو۔کہیں تہمتوں کی روک ٹوک کی جگہ من پائے تو وہاں پتھر چل دے۔یہی مجمل حقیقت روزے اور جن کی سمجھو۔مولوی محمد قاسم مرحوم نے یہ صوفیانہ تقریر مفصل اپنے کسی رسالہ میں لکھی ہے۔اس جواب پر میرے عزیز فرزند نے مجھے کہا۔آپ جب اسرار شرائع اسلام بیان کرتے ہیں۔تو انپر دو اعتراض وارد ہوتے ہیں۔اول یہ اسرار جو آپ بیان کرتے ہیں۔اگر واقعی اور سچے ہیں۔تو خود خدا نے یا جناب رسالتم آپ نے یا آپ کے صحابہ نے کیوں بیان نہ کیئے۔دوم۔ان اعمال کے ساتھ اسلام نے یہ سند رکعات اور دعائیں کیوں لگا دیں۔اگر رفت اجتماع قومی ہی جمعہ اور جماعت عیدین اور حج میں مقصود تھا۔خاکسار نے اُس عزیز سے کہا۔قانون قدرت پر نظر کرو۔فوٹو گراف لیتھو گراف - ٹیلیگراف - چھا پہ۔ریل اسٹیم کے اسرار عناصر میں اسوقت سے موجود ہیں۔جب سے عناصر کو خالق عناصر نے پیدا کیا یہاں میرا عزیز غور کرے۔الا نہ خدا نے اُسوقت ان اسرام کو بیان فرمایا۔نہ اُسکے اُن مقربین بارگاہ نے جو اسوقت تھے انکی تشریح کی پھر کیا اسوقت کے بیان نہ کرنے سے لازم آتا ہو کہ یہ اسرار موجود ہی نہ تھے۔اور یہ منافع جو آج ظاہر ہوئے۔ان عناصر میں اسی زمانے میں موجود ہو گئے ہیں۔عزیز من قانون شریعت ہاں اسلام بعینہ قانون الہی سمجھو۔عزیز من قانون قدرت اور طبیعیات میں صرف وہی اسرار اور منافع نہیں جو حکمائے ا پیدائیش ۲ باپ ۲۴۔-