فصل الخطاب لمقدمۃ اہل الکتاب

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 446 of 455

فصل الخطاب لمقدمۃ اہل الکتاب — Page 446

ततन قطعه تاریخ طبع از نتالی عالی عالم نام و فاضل گرامی جناب مولانا مولوی محمد عبد العلی صاحب اسی ادام اللہ رب الاناسی در فیضان احمد وا ہے آئے جس کا جی چاہیے یہ بحر فیض ہے غوطے لگائے جس کا جی چاہے چلیسیا میں یہی تکیٹ کی توحید سے کوسوں احمد کی وحدت اس احمد میں پائے جسکا جی چاہے اسی میں ہے اللہ اور حمد و تفضیل اور دنداں کہاں پیمت نہیں میں دکھائے جس کا جی چاہے بنامیم ایدہ ہے نامی نام اس احمد کا محمد بھی کوئی محمود اور ایسا بتائے جس کا بھی چاہیے ہے حامد نام اور بھی ہے عمید اس میدانکل کا ہو ماخذ ایک مشتق اتنے لائے جس کا جی چاہے کہاں آیا جہ اس کے مدح میں محمد درج گل عالم جو آیا ہو تو نام اس کا بتائے ہیں کا جی چاہے اُسی کا فضل تلی ہے ہر اک جزئی میں عالمہ کے قضیہ ہے یہ کلیہ مٹائے جس کا جی چاہیے فضل ہراک دلیل لمی واتی سے اس کا فضل گل اکل مدلل ہے۔بگاڑے یا بنائے جس کا جی چاہے ہو چاہے جائے جنت میں تو آئے دین احمد میں نہ آئے آتش دوزخ میں جائے جس کا جی چاہے گیا باطل وہ حق آیا کہ حق ہم نے حق کہا اس کو اب اس احقاق حق کا حق چھپائے جس کا جی چاہے سراسر ظلم ہے اندھیر ہے اور ناسپاسی ہے اس احقاق حقیقت کو بھلائے جس کا جی چاہے اسی احقاق حق کے واسطے یہ چھپ گیا نسخہ بتحقیق اس میں حق دیکھے دکھائے جسکا جی چاہے ے یعنی احمد میں اگر میم ساکت کرو تو احد ہو جائے اور الف ساکت کر و تو حمد بن جائے اور پھر بھی صنعت مقلوب بعض مرچ بھی ہو جائے۔اور بات ڈیم کو حال رکھو تو دو میلے ہیں میرا اصل تفصیل ذکر وسیله های خلیت نفر شهر قایم بندہ ایٹم عبدالحکیم کا اب کتاب ہذا۔ے جو قیاس کے مقدمات یقینیہ سے مرکب ہو اور صد و سطاسکی سہب اور علت محکم کی نفس الامر در زمین میں واقع ہویا میں میں ايلة علت سے محلول کی طرف دلیل لاتے ہیں اس کو لی لی اور بال کی اس کے دلیل لی کہتے ہیں۔مومنہ س جیسا کہ فرمایا حق تعالی نے اس آیہ کریمیہ میں (بقیہ دیکھیں مست ۴۴ پر )