فصل الخطاب لمقدمۃ اہل الکتاب — Page 23
۲۳ امَتعُكُنَ وَأُسَتِ حُكنَ سَرَا حَا جَلا سُوره احزاب سیپاره ار تعظیم کا خیال ہو۔تو نظر کرو۔عباس آپکے پہلا صاحب فرماتے ہیں۔مَا كَانَ أَحَدٌ أَحَبَّ إِلَيْهِمْ مَنْ رَسُولِ اللهِ وَكَانُوا إِذَا سَرَأَوْهُ لَمْ يُقِيمُوا یورپین کی شہادت محمد صاحب کی نسبت واشنگٹن ارونگ اپنی انگریزی کتاب موسوم لا لف آن محمد کے صفحہ ۱۹۴ میںلکھتے ہیں کہ اُنکے او اہل زمانے سے وسط حیات تک کے حالات سے تو ہمیں کچھ نہیں معلوم ہوتا کہ ان کو ایسے ناراست اور مجیب افترا سے جس کا انپر الزام لگایا گیا ہو۔کس مقصد کا حاصل کرنا مراد تھا۔کیا حصول بال مقصود تھا۔خدیجہ کے ازدواج سے تو فی الحال وہ صاحب ثروت ہو چکے تھے۔اور اپنی وحی ادعائی کے اظہار سے تو سالہا سال پیشتر انہوں نے صاف کہ دیا تھا کہ مجھے اپنے سر تے کے اضافے کی خواہش نہیں۔تو کیا حصول جاہ مراد تھی۔حالانکہ وہ پہلے ہی اپنے وطن میں عقل اور امانت میں رفیع المرتب اور قریش کے عالیشان قبیلے اور اسکے معزز اور ممتاز شعبے میں سے تھے۔تو کیا حصول منصب مطلوب تھا۔گرگئی پشتوں سے تو تولیت کعبہ اور امارت حرم خاص اُنھیں کے قبیلے میں تھی اور انکو اپنی وقعت اور حالات سے اور بھی عالی مرتبہ ہونیکا یقین تھالیکن جبیں دین میں انہوں نے نشو و نماکی تھی۔اسی کے استیصال کرنے میں تو انہوں نے ان سب بن نافع کی بینکنی کردی۔حالانکہ اسی مذہب پر تو اُنکے قبیلے کی جاہ و عزت کا دار و مدار تھا۔اسکی بیخ کنی کرنے سے ضرور ہوا کہ انکے اقرب کی عداوت اور اہل شہر کے غیظ و غضب اور تمامی اہل ممالک عابدین کعبہ کی دشمنی و عناد پیدا ہو گیا۔انکی تمشیت خدمات نبوت میں کوئی شے ایسی روشن اور صریح نہ تھی جو اُنکے ان مصائب کی اجر جزیل ہوتی اور جسکی ملمع کے دھوکے میں پڑتے۔بلکہ بر خلاف اس کی اسکی ابتدا تو اشتباہ و اختظا میں ہوئی۔برسوں تک تو اُس میں کوئی معتد بہ کامیابی نہ ہوئی۔جیسے ے کوئی بھی صحابہ کرام کو محمد رسول اللہ سے بڑھ کر پیارا نہ تھا اور صحابہ کا رویہ تھاکہ جب کو دیکھتے تو کھڑے نہ ہوتے ہو