فصل الخطاب لمقدمۃ اہل الکتاب — Page 22
قُلْ إنّا لا أَمْلِكُ لَكُمْ ضَر او لا رَشَدًا قُلْ إِلَى لَن تُجِيرَنِي مِنَ اللهِ أَحَدٌ ، وَلَنْ اجِدَ مِنْ دُونِهِ مُلْتَحَدًا - سوره جن - سیپارہ ۱۹ - رکوع ۱۱ - جس نے آکر نَستَشفَع بِاللهِ إِلَيْكَ کہا اسیر غضب طاری ہوا۔سیارشی لاتے ہیں سند کو تیری طرف موجودہ زمانہ ہوں گذرا۔حالت مرض موت میں آگے کی طیاری ہوتی ہو۔اس میں دیکھو توحید ہی کی طرف کیا تو جبہ ہے۔لمن الله اليهود والنصري الخَذُوا تُبُورَ انْبِيَالِيهِمْ مَسَاجِدَ وَلا نظروني تحد كما أطرتِ النَّصْرَى عِيسَى ابْنَ مَرْيَمَ۔- صحابہ نے توحید کا ایسا خیال رکھا کہ آپ کی قبر کو بالکل ہند کر دیا۔تاکہ نظر بھی نہ آوے اور سجدہ گاہ نہ بنے۔قذاقی منافع کا کال شنو اپنے اور اپنی تمام قوم بنو ہاشم پر صدقات کو حرام کر دیا۔مرنے کے ایام میں آنا پاس نہیں۔کہ آخر عمر میں بقدر ایام مرض آرام سے کھاتے پیتے۔اُن دنوں کے لحاظ سے ضروری اور نہایت ضروری سامان حرب زرہ ہوتی ہے۔وہ بھی چند آثار جو کے دانے کے عوض میں ایک یہودی کے پاس رہیں تھی۔ایک صاع غلہ (آٹھ سیر کے قریب گھر میں رات کو نہ رہتا حالانکہ آپکی تو بیبیاں تھیں۔کھلی اور سادہ چٹائی پر بستر تھا۔کھجور اور پانی پولیس اوقات تھی۔یا ہمہ کثرت عیال اور کھنے کے۔باوجود اتنی فتوحات کے باوجود اسقدر شاگرد پیشہ کے۔بیویوں کے واسطے قرآن کریم میں حکم ہوتا ہے۔ياتها النبي قل لأزواجِكَ إِن كُنتُنَ تُرِدْنَ الْحَيَوةَ الدُّنْيَا وَزِينَه ها فَتَعا اے یہود اور نصاری پر خدا کی لعنت ہو۔انہوں نے اپنے نبیوں کی قبروں کو مسجدیں بنا یا۔میری بڑائی ایسی نہ کیجیوں جیسے نصاری نے مسیح ابن مریم کی کی ہے۔ے سے نہیں کہ سے اپنی بیویوں کو اگر تم چاہتی۔دنیا کا جینا اور یہاں کی رونق تو آؤ کچھ فائدہ دُوں تم کو اور رخصت کر دوں بھلی طرح سے ۱۲