فصل الخطاب لمقدمۃ اہل الکتاب — Page 17
۱۷ دھر تھا، اس کا ایسا فیصلہ کیا کہ قوم پر ثابت کر دیا۔میرے ہاتھ کے چھونے سے تم کو آرام در نجات ہے۔مجمل قصہ یوں ہے۔جب قوموں میں اس پتھر کے رکھنے میں اختلاف ہوا کہ اس پتھر کو کون کہے۔تو ان لوگوں نے یوں ٹھانی۔جو پہلے دروازے سے اندر آوے۔وہی اس کا رکھنے والا ظہر ہے۔رق اتنے میں حضور آنکھئے۔آپ نے اپنی چادر بچھا دی۔اور پھر اس میں رکھ کر حکم دیا کہ تمام قومیں اتنا اس چادر کو اُٹھا لیں۔اس سچے سبت اور سچے کونے کے پتھر نے اس آفت قتل و قتال سے قوم کو آرام بخشا۔یہ واقعہ آپ کی پینتیس سال کی عمر میں ہوا۔ایک نہایت عجیب واقعہ سنائے بغیر ابتدائے ایام نبوت کے حال سے میں خاموش نہیں رہ سکتا۔عثمان بن ہو یرہ ایک عرب عیسائی ہو گیا۔اس دشمن قوم نے قسطنطنیہ کے دربار میں قصیر روم سے جاکر وعدہ کیا کہ حجاز کا ملک میں آپکے قبضے میں کرائے دیتا ہوں۔پھر اس شیطان نے یہاں مکہ معظمہ میں اپنا منشا پورا کرنے کے لئے کارروائی شروع کی۔مگر اس دشمن ملک کا ند ا ز صرف حضور کی عاقبت اندیشی سے کھل گیا۔اور اس شیطان دشمن قوم کو اس خسران کے سوا کچھ ہاتھ نہ آیا۔کہ خائب و خاسر ہلاک ہوا۔کائن دی پر سول جلد را صفحه ۳۳۵ میور جلد ۲ صفحه ۴۴ - سوالات هر قل قیصر روم جوابات ابو سفيان محمد قوم کا کیسا ہے۔(انبیا اشراف جبکہ ابوسفیان آپ کا سخت منکر تھا۔۔ا۔ا۔قوم کا بڑا شریف اور نجیب الطرفین ہے۔-- تمہاری قوم قریش میں کسی نے ان کو آگے۔ایسا دھوتی ہماری قوم میں کسی نے کبھی ہوتے ہیں۔بھی امری نبوت کا موتی کیا ہو۔دو کوئی عادت نہ ہوں نہیں کیا۔۔اسکے بزرگوںمیں کوئی ایسا بادشاہ گذرا ہو سکتی۔ایسا کوئی بادشاہ اُس کے آبا و بادشاہت جاتی رہی ہو۔بادشاہت کا خیال ہوں اعداد میں نہیں گذرا۔ملکی اور قومی کام