فصل الخطاب لمقدمۃ اہل الکتاب

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 16 of 455

فصل الخطاب لمقدمۃ اہل الکتاب — Page 16

14 سلمہ کی تھیں۔اور اس خوبی سے اس تعلق کو پورا کیا کہ وہ بلا تامل حضور کی دعوت اسلام پر پہلے ہی روز ایمان لائیں۔میں خدیجہ کی شہادت سے چشم پوشی نہیں کر سکتا۔جو انہوں نے آپ کے ابتدائی دعوی نبوت میں دی ہے۔حضور علیہ السلام نے جب نداے الہی سنی اور دیکھا کہ تمام دنیا اس وحفظ کی مخالفت کریگی۔جب آپنے فر مایا۔خدیجہ مجھے اپنی جان پر خوف بن گیا۔تو وہ کہتی ہیں۔انشر نو الله لا يُخْرِيكَ اللهُ أَبَدًا إِنَّكَ لَتَصِلُ الرَّحْمَ وَتَصْدُ فَالْحَدِيثَ وتحمل الكل وتكسب المعدومَ وَتَقْرِ الضَّيفَ وَتُعِينُ عَلَى نَوَائِبِ الْحَقِّ۔بخارى تفسير سورة اقرأ خور گر و بچپن سالہ بی بی آپکی ہم قوم جو پندرہ سال سے آپکے بیاہ میں ہو کیا گواہی دیتی ہے۔خدیجہ کی گواہی ایسے وقت میں جبکہ آپ غمگین اور مضطرب تھے۔فور کے قابل ہے۔اگر آپ میں یہ صفات نہ ہوتے۔تو حدیبیہ کا بیان اسوقت ہرگہ تسلی کا موجب نہ ہوتا۔حضور کی قوم میں کوئی دینی کتاب کوئی قانون نہ تھا۔کوئی سلطنت نہ تھی حضور نے نبوت پہلے ایک عجیب تحریک کی جسکو دیکھ کر اور شنکر انسانیت والے انسان عش عش کر جاویں۔بنو ہاشم اور بنو مطلب بنو اسد بنو زہرہ تیم بن مرہ کے درمیان ایک معاہدے کی تحریک فرمائی۔اور معاہدہ یہ تھا۔کمزور اور مظلوم ظلم نہ ہو اور انکی حفاظت کی مجاوے۔ابن اثیر جلد ۲ صفحہ ۲۹ - کعبے کی مرمت میں کونے کے پتھر حجر اسود کے رکھنے پر تمام قبائل تجاز میں اس بات پر نفاق شروع ہوا کہ اس کونے کے پتھر کوکون شخص اُٹھا کر رکھے۔قریب تھا تمام قوم کٹ کر ہلاک ہو۔اس حقیقی کونے کے پتھر نے جسکی پیشینگوئی کیلئے تصویری زبان میں دانیال ۲ باب ۳۴ منتی ۲۱ باب ۲۲ یسعیاہ ۲۸ باب ۱۶ میں مذکور ہے۔وہ پتھر قدیم سے عرب کے مقام مکہ معظمہ کے کونے میں ان خوش بوی خدا کی قسم کبھی بھی اشد ولی نہ کریگا۔تو بیشک صلہ رحمی کرتا اور سچ بولتا ہے۔اور دکھ والے کا دکھ برداشت کرتا اور مفلس کو دیتا اور مہمان نوازی کرتا اور پھلے کاموں میں وقتا فوقتا مدد دیتا ہو یا تخبز اسود