فصل الخطاب لمقدمۃ اہل الکتاب — Page 192
۱۹۲ اگر مان بھی لیا جاوے۔تو قدم سے مراد اسرار ہیں۔پاؤں نہیں۔دیکھو قاموس اللغة - قدمة - اى الذين قدمهم من الاشرار فهم قدم الله النار كما أن الخيار قدمه للجنة- یعنے قدم سے مراد وہ شریر لوگ ہیں جنکو خدا نے دوزخ کے آگے دھر دیا۔پس وہ لوگ خدا کی طرف سر آگ کیلئے آگے کئے گئے۔جیسے اچھے لوگ خدا کی طرف سے جنت کی جانب آگے کئے گئے۔پس حدیث کے یہ معنے ہوئے کہ دوزخ هَلْ مِنْ مزید پکارتی رہے گی۔جب تک خدا استشرار کو اُس میں نہ ڈالیگا۔پھر وہ لبس کریگی۔جواب - وضع القدم - مثل للردع والقمع۔یعنی وضع قدم ایک محاوره ای جسکے معنی ہیں روکتا اور تمام دینا۔اب حدیث کے یہ معنے ہوئے کہ یہانتک اللہ تعالیٰ اپنی روک اور تھام رکھیگا اور ایسی روک کر دیگا کہ دوزخ هَلْ مِیں مزید کہنے سے رک جاؤنگی۔جواب - وضع القدم (پاؤں رکھ دینا) ذلیل اور خوار کرنے پر بولا جاتا ہے۔چونکہ عبرتی اور عربی قریب قریب زبانیں ہیں۔اور کتب مقدسہ میں بھی یہ محاورہ برتا گیا ہے۔بنظر ثبوت اتنا ہی بس ہے۔یسعیاہ ۳۷ باب ۲۵۔خدا فرماتا ہے میں اپنے پاؤں کے تلووں سے مصر کی سب ندیاں سکھا دونگا۔۲ سموئیل ۲۲ باب ۳۹۔ہاں وہ میرے قدموں تلے پڑے ہیں۔ا سلاطین ۵ باب ۳- بهبتک کہ خُدا نے اُن کو اُسکے قدموں تلے نہ کر دیا۔لوقا ۲ باب ۲۳ و مرقس ۱۲ باب - جبتک تیرے دشمنوں کو سر سے پاؤں کی چوکی کروں۔دیکھو ان سب محاورات میں لغوی معنوں میں قدم کا لفظ نہیں بولا گیا بلکہ مجازی مناواں ہیں۔پس حدیث کے یہ معنی ہوئے کہ یہانتک کہ خدا جہنم کو ذلیل و خوار کر ڈالے۔اور اُسے چپ کرا دے " ہاں یہ محاورہ اس خطبے میں بھی آیا ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آخری