فصل الخطاب لمقدمۃ اہل الکتاب — Page 132
۱۳۲ طبیعت نے ان دھوکے باز سفیروں کے ساتھ عاصم اور ضعیب مرند اور زبید عبد اللہ بن طارق خالد حزم اور محنت کو روانہ فرمایا یہ بے ایمان فی جب ان فقہائے اسلام کو رجیع نام زید کے ماسوا سب کو قتل کر ڈالا۔اور ان دو بچے ہوؤں کو لگے میں لاکر بیچ ڈالا۔جنریل کا بیٹ لحیان تھا۔اس لئے ان معاونین قتل کو بنو لحیان کہتے ہیں۔اس مکار قوم کو کیفر اعمال پر پہنچانا نہایت ضروری تھا۔اگر ایسی خطر ناک برائیوں سے چشم پوشی کیجاتی۔تو وہ بھی قومیں تمام دنیا کی تہذیب وادیان و قوانین سے آزاد و بیباک استیصال کے در پے ہو جائیں۔اوران کی بلاطواری بنی آدم کو کبھی آرام اور چین نہ لینے دیتی۔مصلح بنی آدم نے بخیال کمال اصلاح اس غدار قوم پر حملہ کیا۔مگروہ لوگ پہاڑ میں بھاگ گئے۔اور رسول خدا بدوں لڑائی اور تعاقب کے واپس تشریف لائے۔ابتدائی تعلیم میں اتنی سرزنش بھی اُن کی دلیری توڑنے کے واسطے کم نہ تھی۔اٹھارواں غزوہ ذوقی د۔اس لڑائی کو خانہ کی لڑائی بھی کہتے ہیں۔اس کا باعث کردوه یہ تھا کہ آپ کی میں اونٹنیاں دودھ دیتی ہوئی تھیں۔جنکی حفاظت پر ابوزر مع اپنے بیٹے کے معین تھے۔اور ابو ذر کی بیبی بھی وہاں رہتی تھی۔ان پر عیینہ بن حصن فزاری کے بیٹے نے چھاپا مارا۔اس لٹیرے کی ٹوٹ میں ابوزر کا بیٹا مارا گیا۔اور ابوذر کی بیبی اور اونٹنیوں کو عیینہ لے گیا۔کئی روز کے بعد ابوذر کی بیبی عضباء نام رسول خدا کی خاص سواری کی اونٹنی پر جو ٹوٹ میں چلی گئی تھی۔سوار ہوکر عیبیہ کی قید سے بھاگ آئی۔ایسی ٹوٹوں کے آئیندہ انسداد کے لئے فراریوں پر حملہ کیا اور اونٹنیاں واپس لے لیں۔اور با اینکہ موقع اور طاقت تھی آپنے اس قوم کا تعاقب نہ کیا۔انیسواں غزوہ فتح مکہ ہے اس عظیم الشان فتح کا حال سنیئے جس کے حاصل ہونے سے دین الہی میں فوجوں کی فوجیں بھرتی ہوئیں۔رسول خدا نے اس لڑائی سے پہلے ایک فعہ وه