فصل الخطاب لمقدمۃ اہل الکتاب — Page 114
انَ اللَّهَ يَأْمُرُكُمْ أَن تَعْبُدُوهُ وَلا تُشركوا به شيئًا اللہ تمہیں حکم کرتا ہو کہ اُسکی عبادت کرو۔اور کسی کو اُسکے ساتھ شریک نہ ٹھہراؤ۔یہ صاف اور سیدھی تعلیم بہت جلد گھرگھر اثر کرنے لگی۔اور خداوند خدا کی جدید برگزیدہ جماعت کے افراد دن بدن بڑھنے لگے۔اب اس ترقی کو دیکھ کر سرکش بہت پرست اور بھی آگ بگولا ہو گئے۔قریش کا اشتعال طبع عادہ کچھ تعجب انگیز بات نہیں کیونکہ ابتک الہی الہامی آواز سے اُنکے کان آشنا نہیں ہوئے تھے۔اسرار علم و نبوت کے اور اک کئے عادی نہ تھے مسیح جیسے خاکسا علیم پر بنی اسرائیل جیسے اہل کتاب تعلیم یافتہ قوم کیسے جھنجھلائے کہ کوئی دقیقہ ایڈا کا فروگذاشت نہیں کیا۔ناچار بقیہ مسلمان پھر بش کو بھاگ گئے اور وہاں کے بادشاہ کے پاس جاکر پناہ گزین ہوئے۔اسکو اسلام میں ہجرت ثانیہ کہتے ہیں۔اس قلیل مدت میں صرف ایک شہر مکے سے تراسی (۸۳) آدمی جینے کو ہجرت کر گئے یہ یہ امر نہات قابل غور ہے کہ آتشیں بت پرستوں کی غضبی حرارت اسپر بھی ٹھنڈی نہیں ہوئی۔انہوں نے اپنے سفیر حبشی بادشاہ کے پاس بھیجے اور بڑے بڑے لطائف الجمیل مہجور الوطن مسلمانوں کی گرفتاری کیلئے عمل میں لائے۔مگر جعفر بن ابی طالب کی پراثر تقریر سے بادشاہ جیش نے متاثر ہو کر ظالم قریش کونا کامیاب واپس پھیر دیا۔اب سفیروں کا اس طرح اپنا سا منہ لے کے لوٹنا قریش کی غضبناک طبیعت پر اور بھی تازیانے کا کام کرگیا۔اب تو اُن کی ایذا رسانی کی کوئی حد ہی نہ رہی۔مناسب معلوم ہوتا ہے کہ تم ان تکالیف کا ذکر کیا جاوے جو اسوقت قریش سے آپکو اور آپکے اصحاب کو پہنچی ہیں۔اگرچہ انحصر میبلعم کی ذاتی وجاہت اور بنی مطلب کی قومی عصبیت آپ کیلئے ذاتی اور جانی ضرر پہنچنے کے مقابل سیہ عظیم تھی۔مگر اور خارجی مصائب پر آپکی بشری له ابن ہشام جلد را صفحه ۱۴۵ - ۵۳ ابن ہشام جلد را صفحه ۱۱۴