فصل الخطاب لمقدمۃ اہل الکتاب — Page 79
69 بتائیے۔یہ معجز و ابتک نظر میں آتا ہے یا نہیں۔اگر یہ خرق عادت نہیں تو اُس کی نظیر دکھائیے۔اور معجزہ یعنی حاجت کنندہ نہیں تو اس کے ہم شہر اور ہم قوم دشمنو کا نام ونشان ڈھونڈ ہے۔عیسائی مذہب کا ریت اور انکا خدا کیا نظیر ہو سکتا ہے۔جو بقول عیسائیوں کے قوم سے پٹا مارا گیا۔اُس کی مخالفت اس کی قوم اب تک موجود ہے۔موسی کب نظیر ہو سکتا ہے جس نے خود بھی وہ ملک نہ دیکھا جس کی اُمید پر مصر سے قوم کو لے چلا۔وید کے متبع کیا کھائیں گے۔جن کے مقدس مکان دوسروں کے قبضوں میں نظر آتے ہیں جن کی الہامی دعائیں خدا کی بتائیں رہیں ہمیشہ الٹی پڑیں۔زرتشتی کیا نظیر دکھائینگے۔جن کو اپنے ملک میں سر رکھنے کی جگہ نہیں ملی۔دوسری آیت نبوت یا دوسرا معجزہ اور خرق عادت جو محسوس اور مشہور ہو۔آپکی حیات میں آپ کا اپنے ملک پر پورا السلط اور اپنی قوم پر پوری حکومت۔جونہ آپ کے پہلے کبھی ایسی کامیابی سی مدعی نبوت کو ہوئی اور نہ آپ کے بعد حضور علی اسلام کیسے آزادی بخش اپنی قوم کے ہو کہ آپ شہر آجتک غیروں کی غلامی سے آزاد ہو گیا۔سلطان شر کی جو برائے نام وہاں کے بادشہ ہیں۔خادم الحرمین کا لقب رکھتے ہیں۔راس موقع پر قید کی الہامی دعائیں اور انکی کوششیں جو وید کے مومن ہیں اور عیسائیوں کے مخلص نجی کی جانفشانی اور موسی کے بڑے معجزات اور ابراہیم اور یعقوب کے ساتھ خدائی وعدے کنعان کی ابدی وراثت کی بابت۔اور پارسیوں کے الہامی ہادیوں کی دعائیں فراموش کرنے کے قابل نہیں۔قومی آزادی کے قدر دان قوم کے مسلمین کے قربان انصاف کریں۔ہادی عرب کمزوری کی حالت میں کیا کر گئے۔جاءَ الْحَقِّ وَ ما بدی الْبَاطِلُ وَمَا يُعِيدُ - سوره سبا - سیپاره -۲۲ - رکوع ۱۲ آیا دین سچا۔اور جھوٹ کو نہ پہلا اور نہ دوسرا۔