فصل الخطاب لمقدمۃ اہل الکتاب

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 47 of 455

فصل الخطاب لمقدمۃ اہل الکتاب — Page 47

جہاں سے ایسے عظیم الشان حکیمانہ مذی کی نشو ونما اور ابتدا شروع ہوئی۔لاہر ایک سلمان فقیرو یا امیر ہر سال اس کا وہاں جانا خلاف فطرت تھا اور خلاف امکان۔اسلیئے حکم ہوا۔آسودہ لوگ استطاعت والے مسلمان وہاں بہا دیں مختلف بلاد کے حالات جاننے اور اُنکے علوم و فنون کے ادھر سے اُدھر اُدھر سے ادھر لانے میں اصحاب استطاعت ہی غالباً عمدہ طور پر کامیابی کا ذریعہ ہوسکتے ہیں۔کمال اتحاد اور با ہم پہلے درجے کی یکتائی کے واسطے اور اس لحاظ سے بھی کہ امرا اور روسان کے اور رورہے کے ساتھ اُنکے غریب کا کر چا کہ کبھی ہونگے اور ضرور ہے کوئی عاشق الہی غریب اور سکین مسلمان بھی وہاں جا پہنچے۔حکم دیا تمام حجاج سادہ لباس صرف دو چادروں پر اکتفا کریں کسی کے سر پر عمامہ اور ٹوپی نہ ہو۔کوئی کرنہ نہ پہنے۔کمال درجے کی بے تکلفی اور سادگی سے با ہم میں اومد لَبَيْكَ لَبَيْكَ اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ لا شَرِيكَ كك کی صدا بلند کریں۔اتنا بڑا اجتماع اس صدر مقام میں کہاں ہو شہر سے کئی کوس کے فاصلے پر نہایت وسیع میدان میں جہاں کسی مخلوق کی تعظیم کا نام و نشان ہی نہیں نہ کوئی پتھر نہ کوئی درخت نہ کوئی ندی نہ کوئی رتھے۔حج کی بحث مفصل علیحدہ لکھی ہو۔اُسے دیکھو وہاں ہر ایک فعل جو کی نسبت کلام کیا ہو۔لطیفہ۔ذرا ناظرین صاحبان اس امر پر غور کریں۔میرے اکلوتے فرزند نے سلمہ اللہ و سلم جس کی جدائی سے نہایت سخت رنج میں ہوں۔وَاشْكُو بَنِي وَحُزْنِي إِلَى اللهِ اللهُم اطلب وصاله إن كان مع رضاك ) مجھ سے نماز اور زکوۃ اور روزے اور حج کے اسرار پر سوال کیا۔اس وقت میں نے اُسے جواب دیا۔نیازمندی دو قسم ہوتی ہو۔ایک نیازمندی خادمانہ۔خدام کی نیاز مندی اپنے آقا اور بادشاہ کے سامنے۔دوسری نیازمندی عاشقانہ عاشق کی محبوب کے ساتھ۔پہلی قسم کے نیاز مند کو مناسب ہے۔درباری لباس پہن کر بڑے ادب اور وقار سے مالک کے دربار میں حاضر ہو۔اور تمام حکام اور مرتبوں کی اطاعت سے کان پر ہاتھ رکھکر اطاعت کا اقرار کرے۔ہاتھ باندھ حکم کا منتظر رہے۔مجھک کر تعظیم دے۔زمین پر