فصل الخطاب لمقدمۃ اہل الکتاب

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 447 of 455

فصل الخطاب لمقدمۃ اہل الکتاب — Page 447

مام هم جو منصف ہے سر تسلیم خم کر دے وہ اس جن کے میرا انصاف سے گردن جھکائے جس کا جی چاہے یہ نسخہ ناسخ تثلیث ہے اور ثبت توحید کوئی اس فن کے نسخوں سے ملائے جس کا جی چاہے جو تا جور فخر دیں نامی ہے پہنتا قادیاں اُن سے بار سال ثمن اس کو منگائے جس کا جی چاہے مصنف نے ہیں توڑے یک قلم تثلیث کے حملے جو دعوے ہو قلم کو پھر اٹھائے جس کا جی چاہے میں میدان قلم کو ہے علم کرنے کا دشمن پر قدم اپنا جمائے یا ہٹائے جس کا جی چاہے وہ آئے سامنے اُن کے جو کوئی مرد میدان ہو والا اپنے گھر میں غل مچائے جس کا جی چاہے کیا قائل ہراک کو اُن کے ہے اقوال میں سے کوئی برعکس اس کے کر دکھائے جس کا جی چاہے مناظر میں بڑے اس فن کے وہ اسے پادر اعصاب لڑائے جسے اُن کو یا بھڑائے جس کا جی چاہے معاذاللہ ملائے کم بیڈ کے میں ولد سیسے تو دادا کون ہے اُن کا بتانے میں کا ہی چاہیے خُدائے لم یلیز اُن جس جی نہیں وہ بند میں تقریر اور تحریر دونوں میں اگر با دور نہ ہو تو آزمائے جس کا جی چاہیے نہ ! اگر اُن کی نہ مانے کوئی جنٹلمین عیسائی نہ مانیں گے ہم اس کو اور منائے میں کا ہی چاہیے۔یہی ہے معرکہ آرائی کا میدان ہی چوگاں سخن رانی کے گھوڑے کو بڑھائے جسکا بھی چاہے کوئی فصل الخطاب ایسی کتاب ابتک نہیں نکلی لکھنا اس کا ظاہر ہے چھپائے جس کا جی چاہے ہوئی تاریخ اس کی لاجواب اور با جواب آسی کتاب تو کوئی ایسی بتائے جس کا جی چاہے ۳۰۵اه جی بقیه خاليه صفحه ۴ بـ قُل جاء الحق وزهق الباطل ان الباطل کان زھوتا۔یعنے اے محمد کہ د کافروں سے کہ آیا اور ظاہر ہو گیا حق اور مٹ گیا اور جاتا رہا باطل بے شک باطل ہے جانے حالا۔اور جینے والا پس مرادی سے ذلت آنحضرت مصلح عالم غیر حجم ملی علیہ وسلم ہے یا قرآن و ایمان یا توحید و اسلام یا آیات و معجزات اور مراد باطل سے کفر و شرک ہے یا شیطان یا مدیا سابقہ کما فصل بہتہ المعاني في الكرمانے والقسطلانے و فتح الباري شروح البخاري في كتاب التفسير تحت قوله تعالے - قل جاء الحق الخر ۲ منه