فصل الخطاب لمقدمۃ اہل الکتاب — Page 424
مساهم محض پر مجبول و مخلوق کر دیتے۔رہا یہ امرکہ کیوں ایسا نہ کیا۔یہ جہا حکیمانہ محبت ہے اور خدا کے نفس سے ہم خوب فیصلہ کرسکتے ہیں گر یا مرہماری اصل مبحث سے خارج ہے۔کیونکہ یہ سب باتیں مخاطبین کے مسلمات سے ہیں۔ہاں آریہ کے جواب میں اس وجہ کو ہم نے مفصل لکھا ہے اور کچھ اشارة آگے آتا ہے۔ساتوس ایت بك لامل جهنم لا من جهنم منك ومن تبعك منهم أجمعين - سيار ۲۳- سون - سكوم 2- - - سرکوع پس اوپر کی آیت کی تفسیر نہایت سات ہے اور الناس اور الجنہ پر الف لام عہد دینی ہے۔جس کی تشریح اس اگلی آیت نے شیطان اور اسکے تابعین سے کر دی کہ وہ سب کون لوگ ہیں۔اٹھویں آیت يضل به كثير و يَهْدِي بِهِ كَثيراً ، وما يضل به الا الفستين سيار سر بر سکوت کیسا صاف مطلب ہے کہ فاسق ہی اس کتاب کریم کہ پڑھ کر گمراہ ہوتے ہیں ورنہ مومنوں کے لئے شنا اور راحت اور نور ہے۔نهد نویس ایت آیت اپنے ماقبل اور اپنے ، ابعد کے ساتھ ملانے سے مات کا ہر کرتی ہے کہ منافقتوں کے حق میں ہے اور صریح اہل نفاق کے جن میں وارد ہے منافق اپنے کئے پر گراہ ہوئے۔چھرا ہوا کلمہ تیرے رب کا کہ البتہ بھروں گا دوزخ جنوں سے، اور آدمیوں سے اکٹھے۔۱۲ مجھ کو بھرو او د زرخ تجھ سے اور جو ان میں تیری راہ پہلے ان سے سارے ۱۲ لے گری کرتا ہے اسے بہترے اور راہ پر اتا ہے اس بہتیرے گمراہ کرتا ہے انہیں کوجو بے حکم ہیں ۱۲ ہے کیا تم چاہو کہ راہ سلاد میں وگمراہ کیا ہے اورمیں کوالہ راہ نہ دے پھر تو نے پہلے اس کے واسطے کوئی راہ ہوں