فصل الخطاب لمقدمۃ اہل الکتاب

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 375 of 455

فصل الخطاب لمقدمۃ اہل الکتاب — Page 375

۳۷۵ نہ کوئی آلہ بنا رکھا ہے۔کسی نے ناقوس نرسند گا۔کسی نے گھنٹے گھنٹیاں۔مگر انصاف شرط ہے۔ان میں سے کوئی وضع بھی اذان سے مقابلہ نہیں کر سکتی ہے۔اُس پیارے رسول نے جسکی واقعی صفت میں قرآن فرماتا ہے۔12 ويضع عنهم أصرهم الاغلال التي كانت عليم ان تمام رسمی بندشوں سیپوں اور سینگوں کی تعاش سے اُمت کو سبکدوش کر دیا۔ذری انصاف سے ان کلمات کو سوچو۔اس ترکیب کے سر پر نگاہ کہ کہ کوئی قوم بھی تب میں ہے جو اس شد و مد سے پہاڑوں اور میناروں پر پڑھ کر اپنے پیچھے اصولوں کی ندا کرتی ہے۔عبادت کی عبادت اور بلاہٹ کی بلا ہٹ۔دُنیا میں ہزاروں حکما اور ریفار مرگ : رے ہیں اور قومی گڈر کے پیدا ہوئے ہیں۔مگر تتر بتر ہوئی بھیڑوں کے اکٹھا کرنے اورایک بہت میں لانے کا کس نے ایسا طریق نکالا کس نے کبھی ایسی ترنی پھونکی۔یوں کی دل کش آوانت معا روحانی جوش اور ولولہ تمام ظاہر و باطن میں پیدا کر دے۔اللہ اکبر کیسی صداقت ہو کہ ایک قوم علی الاعلان صبح و شام پانچ دفعہ اپنے بے عیب عقیدے کا اشتہار دیتی ہے۔! تعیین اوقات۔پابندی وقت آہ کیسے مقبول کلمات ہیں کہ جب کسی قوم کی ترقی کی راہ کھیلی۔اسی مشعل جان افروز کے نور سے تمام مدافعات کی تاریکی دور ہوئی شریعیت موسوی میں احکام نماز منضبط نہیں ہوئے تھے۔توریت طریق نماز سے بالکل ساکت ہے۔صرف علمائے دین کو وہ یکی دیتی اور پہلوٹھے لڑکے کو سیکل مقدس میں لاکر ندر دیتی۔وقت خاص دعا پڑھی جاتی۔اور لڑکے کا باپ تمام احکام شرعی کو بجالا کہ یہوداہ سے دعا مانگتا تھا۔کہ اس اسرائیلی لڑکے کو برکت دے۔جیسے تو نے اس کے آبا و اجداد پر برکت نازل کی تھی۔لیکن سب یہود اور اُنکے علما کا اعتقاد باری تعالیٰ کی نسبت زیادہ تر معقول اور پاکیزہ ہو گیا۔اور خدا وند عالم کے شکل بشکل انسان ہونے کا فاسہ عقید, دفع ہونے لگا۔تب نماز یا دعا کی اور اُتارتا ہے اُن سے بوجھہ اُن کے اور پھانہ میاں جو اُن پر تھیں۔نبط اوقات