فصل الخطاب لمقدمۃ اہل الکتاب

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 349 of 455

فصل الخطاب لمقدمۃ اہل الکتاب — Page 349

MNG النَّهَارِ وَكَفَرُوا أَخرَة لَعَلَّهُمْ يَرْجِعُونَ وَ وَلَا تُؤْمِنُوا إِلا لِمَنْ تَبِعَ دِينَكُمْ، قُلْ اِنَّ الْهُدَى هُدَى اللهِ أَن يُولَى اَحَ مِثْلَ مَا أُوتِيتُهُ أَوْ يُحَ الجُوَاكُمْ عِندَ رَبِّكُمْ - قلْ إِنَّ الْفَضْلَ بِيَدِ اللهِ يُؤْتِيهِ مَنْ يَنَا ۚ وَاللَّهُ وَاسِعٌ عَلِيدُه يَخْتَصُّ بِرَحْمَتِهِ مَنْ يَشَاءُ وَاللهُ ذُو الْفَضْلِ الْعَظِيدِ، سیپاره ۳ - سورة ال عمران رکوع ۸ - ان آیات میں بہت سی باتیں بتاکر باری تعالی فرماتا ہوکہ نبوت اور قرآن خداوند کریم کا فضل ہو اور فضل کے دینے میں اللہ تعالیٰ کو اختیار ہو جسے چاہے اپنے خاص فضل سے مخصوص کرے۔خدا کا وہ ارادہ جس سے وہ اشیاء پیدا کرتا ہے۔اس کی تکمیل ایک لا بدی امر ہے۔کیونکہ اس قادر مطلق کی قدرت اور طاقت کے واسطے کوئی مانع نہیں۔اسی ارادہ ازلی کی تکمیل کی ضرورت نے نزول قرآن اور نبوت محمد عربی کو ضرور پورا کر دیا۔مثلاً نادانی سے کوئی کہے کہ پطرس اور یوحنا وغیرہ تو مسیح کے حواری ہو چکے تھے پولوس کو حواری بنانے کی کیا ضرورت تھی۔تو اس کا ٹھیک جواب یہی ہوگا اور جتنے سوار کیا ہونیکے لیے ازل میں منظور ہو چکے تھے۔وہ صہ ور سواری ہوئے۔ضرور دوسرى ضرورة جن لوگوں کو پولوس کے ذریعے اور وساطت سے ایمان لانا تھا۔اُنکے لئے پولوس کا آنا ضرور تھا۔ایسا ہی جن لوگوں کو قرآن اور کرم صلعم کے ذریعے ایمی ندار ہوتا اور خدا کی بادشاہت میں داخل ہونا تھا۔ان کیلئے قرآن کا آنا اور میں مسلم کا بادی ہو نا ضرور تھا عرب کا ہو ی بت پرستی اور انکا باہمی ہمیں کینہ و عداوت کس فریم نے دور کیا۔کیا یہودی نے ان کو وحده لا شريكَ لَہ میں ایک کر دکھلایا۔کیا عیسائی اخلاق کی تاثیر اُن کے بغض و عداوت کو دنیا بقیه ای برای او یا یقین نہ کیا گیا اور پہلے تمہارے دین پر تو کہ ہدایت ہے جو ہر ایت الہ کرے۔یہ اس واسطے ہ اور کو ملا۔جیساکچھ کو تھا۔یا مقابل کیا تم سے تمہارے رب کے آئیں تو یہ بڑائی اللہ کے ہاتھ ہو رہا ہے جس کو دیتا چا ہے۔اور اللہ گنجایش والا ہے۔خبردار خاص کر تا ہو اسی مہربانی پر ہی ہے۔امیراشد کا تفصل بڑا ہے۔"