فصل الخطاب لمقدمۃ اہل الکتاب — Page 346
وكان مِن قَرْيَةٍ هِيَ أَشَدُّ قوة من قريتك التي أخرجتك اهل انا هم فَلا نَاصِرَ لَهُم - سیپاره ۲۶ - سوره محمد - رکوع ۶ - وَضَرَبَ اللهُ مَثَلَا قَرْيَةً كَانَتْ مِنَةً مُّطْمَئِنَّةً يَأْتِيْهَا رِزْقُهَا رَغَدًا مِّنْ كل مكان فكفَرَتْ بِانْعُمِ اللهِ قَادَ افَها الله لباس الجوع والخوب بما كانوا يَصْنَعُونَ، سیپاره ۱۴ سوره نحل - مرکوع ۱۵ ولقد و لَقَدْ جَاء هُمْ رَسُولَ ر سول مِنْهُمْ فَكَذَّبُوهُ فَأَخَذَهُمُ الْعَذَابُ وَهُمْ ظُلِمُونَ سیپاره ۱۴ - سوره نحل - مرکوع ۱۵ - پر غور کرو سوچو۔تامل کرو۔آپکی میں کیسی راست ہوئیں اور ناسمجھ کگار بدکردار کیسے ملاک ہوئے۔کامیابی بھی راستی کی بڑی دلیل ہر خصوصا جب تکذیب کنندوں کی ہلاکت کے ساتھ ہو۔خدا کو نوح کی قوم کا غرق کرنا اور عاد کی قوم کو ریح صر صر کے ساتھ تباہ کر دینا صالح کی قوم کا لڑک سے نیست و نابود بنانا شعیب کی قوم پر یوم ظلہ کی ذلت بھیجنا۔لوط کی تکذیب سے قوم لوط اور انکی بستیوں کو تہ و بالا کر دیا۔فرعون کے لاؤ لشکر کو بحر قلزم میں فناکرنا۔یہ سب باتیں انبیاء کی کرامات اور انکی دوجاہت ہیں۔تمام سورہ شعرا میں اس کا مفصل بیان موجود ہے۔اور جہاں آیت ختم ہوتی ہے وہاں آتا ہے۔ان اور کتنی تھیں بستیاں جو زیادہ تخصیص زور میں اس تیری بستی سے جس نے تجھے کو نکالا ہم نے ان کو کھا دیا۔پھر کوئی نہیں اُن کا مددگار ۱۲۔اور بنائی اللہ نے کہاوت۔ایک بستی تھی۔چین امن سے چلی آتی تھی۔اُس کو روزی فراغت کی ہر جگہ سے۔پھر نا شکری کی اللہ کے احسانوں کی۔پھر چکھایا اس کو اللہ نے مزہ کہ اُن کے تن کے کپڑے ہوئے بھوک، اور ڈر بدلا اس کا جو کرتے تھے ۱۲۔- ے اور ان کو پہنچ چکا سو انھیں میں کا پھر اسکو پھٹ یا پھر پکڑ ان کو عذاب نے اور وہ گنہگار تھے۔