فصل الخطاب لمقدمۃ اہل الکتاب — Page 339
کے قونے پر کرتے ہیں کیونکہ یہ دلائل اس سرچشمہ فطرت (نیچر سے اخذ کیئے جاتے ہیں۔جو کم و بیش ہر انسان میں ودیعت رکھی گئی ہے اور اسی لیے فطرت انسانی اُس کے فعل و انفعال پر بہت جلد آمادہ ہو جاتی ہے۔ہوا اور بات ہو کہ بہت سے قسی القلوب مخشوش الفطرت انسان اُس پر کان بھی نہیں دھرتے۔مگر عموم صحیح المزاج سلیم الفطرت اُس بوق کی سُریلی پر معنی آواز کی طرف بڑے شوق سے بے اختیار دوڑے چلے جاتے ہیں۔ب ہم دیکھتے ہیں کہ قرآن نے بی اس قسم کے دلائل کو اختیار کیا اورفطرت انسانی کی تسخیر کے لیے ایک عجیب فوق التصور نسخہ ایجاد کیا۔اور یہ امتیاز و فخر من قبل و مابعد کبھی بھی کسی کتاب کو میسر نہیں ہوا۔اور اس خدائی ترکیب ترتیب نے جو اثر اس وقت کے عرب کی غیر مہذب غیور مگر فصیح وسیف اللسان دنیا پر کیا۔اور جو ویسا ہی اب تک قانون فطرۃ کے راز دانوں اور دلدادوں کے دل پر کر رہا ہے۔کچھ محتاج بیان نہیں۔عیسائیوں نے نہایت کامیاب کوششیں قرآن کی اس حقیقت کے چھپانے کیلئے کی ہیں۔اور چاند پر تھوکنے کیلئے بہت کھینچ تان کر گرونوں کو اٹھایا ہے۔اور بقول ن يَتَسَبَتْ بِالْحَشيش سخت بے سر و پا دلیلوں کو اپنا مایہ ناز بنارکھا ہے۔۔کبھی قرآن کے مقابل میں سواطع الالہام - مقامات حریری۔سبعہ معلقہ وغیرہ پیش کرتے ہیں۔اور کبھی ملٹن ہو مرے شیکسپیر کو بلالا تے ہیں۔الخريق کچھ ضرورت نہیں کہ بار بار ان ہوا بات کا اعادہ کیا جائے۔جو علمائے اہل اسلام نے ان اعتراضات پر دیئے ہیں۔مگر ان آدمزادوں کی قوت ایمانی پر سخت حیرت اور تعجب آتا ہے کہ ایسے فضول افسانوں اور بد اخلاقی اور فحش محبتم مضمونوں کو ایک الہامی کتاب قرآن کے متقابل میں نے اخلاقی معاشرتی۔تمدنی تعلیم کو تکمیل کے درجے پر پہنچایا۔پیش کرتے ہیں۔بیشک قرآن فصاحت و بلاغت میں اعلیٰ سے اعلیٰ درجے پر