فصل الخطاب لمقدمۃ اہل الکتاب

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 27 of 455

فصل الخطاب لمقدمۃ اہل الکتاب — Page 27

۲۷ ایک نمونہ وہ ہیں جن میں سے کسی نے تیس روپے پر اپنے را ستہانہ استاذ کو پکڑوایا۔دوسراکلیا کا وہ پہلا پتھر ہےجسکو آسمان کی تبیاں عطا ہوئیں اوروہ ملعون ہیکر اپنے مخلص رب سے انکار کر گیا۔ایک ہیں۔ہاری کے پہاڑ پر آنے میں آٹو پر کی دیگی۔تو پھڑوں کو اپنامعبود بنالیا۔دیکھو خروج ۳۲ باب۔ایک ہیں۔خاکسار بندے کے سر پر الوہیت کا تاج رکھا ہوا یقین کرلیا۔اسی کے طعون ہونے میں اپنی نجات سمجھے۔راد عصر محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے اتباع کو دیکھے۔آپ کے اتباع میں وطن سے نکالے گئے۔اموال و اسباب سے محروم ہو گئے۔کمال مصیبت کی حالت میں پوری کمزوری کے وقت میں کہتے ہیں۔ل نقول كَمَا قَالَ قَوْمُ مُوسَى اِذْهَبُ أَنتَ وَرَبُّكَ فَقَاتِلا - ولكنا نقاتل عَنْ عَيْنِكَ وَعَنْ شِمَالِكَ وَ بَيْنَ يَدَيْكَ وَخَلْفَكَ۔( بخاری جلد ۲ - كتاب المغازي - مطبوعه مصر صفحه ۳) وہ انصاری لڑ کے جنگ بدر میں جس میں ابتدا کفار کی طرف سے ہوئی تھی۔میں سرکہ جنگ میں ایک صحابی سے پوچھتے ہیں۔يا عم ارني أبا جهل فَإِنِّي مَا هَدتُ اللهَ إِن رَأَيْتُه أَن أَقْتُلَه او اموت تسمیہ عمار بن یا سر کی والدہ کو مکے میں ابو جہل نے سخت سخت ایذائیں دیں اور اتنا ہی چاہا کہ بظاہرمحمدصلی اللہ علیہ وسلم سے انکار کرے لیکن اس نے اپنی جان دیدینا اختیار کیا۔ہیں اے ہم نہیں کہتے جیسے موسی کی قوم نے کہا جا تو موسی اور تیرارب اور دونوں لڑوایا ہے لیکن ہم تیرے داہنے اور تیرے بائیں اور تیرے آگے اور تیرے پیچھے تیرے دشمنوں سے لڑینگے " اے اسے چھا مجھے ابو جہ کو دکھا دو کیونکہ میں نے خدا سے عہد کیا ہے۔اگرمیں اسے دیکھے پاؤں تو اسے مار ڈالوں گا۔یا اُس کے آگے مرجاؤنگا۔کیونکہ وہ عمر کو گالی دیتا ہے۔