فصل الخطاب لمقدمۃ اہل الکتاب — Page 24
۲۴ جیسے انہوں نے اپنی تعلیمات کا اظہار اور وحیوں کو آشکار کیا۔ویسے ہی اور اسی قدر لوگوں نے اُن سے ہنسی اور ٹھٹھا اور بُرا کہنا شروع کیا۔اور آخر کو بوری بری طرح سے اذیتیں دیں جب سے اُن کی اور اُن کے رفقا کی ریاستیں برباد ہو گئیں۔اور چند نکے اقربا اور اصحاب غیر ملک میں پناہ لینے پر مجبور ہوئے اور انہیں خود بھی اپنے شہرمیں چھپے رہنا پڑا۔اور بالآخر گھر ڈھونڈ نے کیلئے ہجرت کرنی پڑی۔پس کس غرض سے وہ برسوں تک اسی تزویر کی صورت میں اصرار کرتے جس سے اسی طرح سے ان کی سب دنیوی دولتیں اُنکی زندگی کے ایسے وقت میں کہ انکو پھر مجددا حاصل کرنے کا بھی زمانہ نہیں رہا تھا۔خاک میں مل جائیں۔انتھی کلامہ۔راڈویل دیباچہ ترجمہ قرآن شریف کے صفحہ ۲۳ مطبوعہ انٹر میں لکھتے ہیں۔بلکہ دلیلوں سے ثابت ہو کہ محمد کے سب کام اس نیک نیتی کی تحریک سے ہوتے تھے۔کہ اپنے ملک کے لوگوں کو جہالت اور ذلت کی ثبت پرستی سے چھوڑ دیں۔اور یہ کہ نہایت مرتبے کی خواہش ان کی یہ تھی کہ سب سے بڑے امر حق یعنی توحید الہی کا جو ان کی روح پر بدرجہ فایت مستولی ہورہی تھی۔اشتہار کریں۔ڈاکٹر اے اسپر نگر۔اپنی کتاب سیرت محمدی کے صفحہ اور میں لکھتے ہیں۔محمد تیز فہم اور نہایت مرتبے کے عالی نظر تھے۔صاحب رآئے اور عالی مذاق تھے۔گو وہ شاعر کے نام کو نا پسند کرتے تھے۔مگر بہت کر کے تو شاعر تھے۔اور قرآن کی عبارت باہم متشابہ اور مضامین عالی اس کے عمدہ فضائل ہیں۔انکے خیال میں ہمیشہ خدا کا تصور رہتا تھا۔اُن کو نکلتے ہوئے آفتاب برستے ہوئے پانی اور اگتی ہوئی روئیدگی میں خدا ہی کا یہ قدرت نظر آتا تھا۔اور بجلی کی کڑک اور آوانہ آپ اور پرندوں کے نغمے حمد الہی میں خدا ہی کی آواز سنائی دیتے تھے۔اور سنسان جنگلوں اور پرانے شہروں کے خرابات میں خدا ہی کے قہر کے آثار دکھائی دیتے تھے۔گاڈ فری ہینگس اپالوجی مطبوعہ علماء میں لکھتا ہے۔محمد کے رویے جانچنے میں