فصل الخطاب لمقدمۃ اہل الکتاب — Page 260
حکم نہیں دیا۔یا اور معبودوں کے نام سے کہیے۔تو ہ نہیں قتل کیا جا ویگا۔اور اگر تو اپنے دل میں آنے میں کیونکر جانوں کہ یہ بات خداوند کی کہی ہوئی نہیں۔تو جان رکھ کہ جب نبی کچھ خداوند کے نام سے کہے۔اور وہ ہو اُس نے کہا ہو۔پورا نہ ہو۔یا واقع نہ ہو۔تو وہ بات خدا وند نے نہیں کہی۔بلکہ اس نبی نے گستاخی سے کہی ہے۔تو اس سے مت ڈر۔اس بشارت کا بیان دو حصوں میں منقسم کیا جاتا ہو۔اول حصے میں اس امرکا ثبوت ہو که بهہ بشارت خاص محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حق میں ہو۔اور دوسرے حصے میں یہ بیان کریں گے۔کہ جن لوگوں نے اسکو محمد مرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حق میں نہیں مانا۔اُن کے اعتراض صرف دھر کا ہیں۔حصہ اول اس پیشینگوئی میں موسی نے بڑا بسط کیا ہے۔اور جہانتک ممکن تھا۔اس نبی کا نشان ظاہر کیا۔اول اس نہیں کی قوم کو بتایا کہ وہ بنی اسرائیل کے بھائیوں سے ہوگا۔دوم۔وہ نبی مجھ سا ہوگا۔تشبیہ عمل تامل ہو کہ کس امر میں موسیٰ سا ہو گا ) سوم، خدا کا کلام اُس کے منہ میں ہوگا۔چهارم جو کچھ باری تعالٰی اس سے فرمائے گا۔وہ سب کچھ کہ دیگا۔پیجم جو کوئی اس کی مخالفت کریگا اور کہانہ سنے گا۔وہ سزا یاب ہوگا۔م اگر دو نبی بدون حکم باری تعالیٰ کے کچھ کہے۔تو وہ مارا جائے گا۔ہفتم۔وہ نبی توحید کا واعظہ غیر معبودوں کی پرستش کا مانع ہو گا۔اگر غیر معبودوں کے نام سے کچھ کہیگا۔تو مارا جائے گا۔ہشتم اسکی پیشینگوئیاں پوری ہونگی۔اور جھوٹے نبی کی کوئی پیشین گوئی پوری نہ ہوگی۔پوری کچھ کے لفظ پر غور کرو جو بشارت کے اس فقرے میں ہو۔جب انہی کچھ خداوند کے نام سر کیے)۔ہ سچا اس قابل ہے کہ تو اس سے ڈرے، الا جھوٹا نہیں چونکہ جلد ہلاک ہو جا ئیگا۔تھا