فصل الخطاب لمقدمۃ اہل الکتاب — Page 159
۱۵۹ اس آیت قرآنی پر جس میں انسان کی فطرت کا بیان مشاہدے کے طور پر بتایا گیا۔ہے پادری صاحب اعتراض کرتے ہیں۔افسوس ہے کہ یہ لوگ کبھی قرآن کے صلی لڑیحیہ سے واقفیت پیدا کرنے کی کوشش نہیں کرتے۔عوام کی سنی سنائی باتوں کو دل میں رکھ کر اعتراض جمانے لگتے ہیں کیسی کتاب پر اعتراض کرنے سے پہلے اسکے اصلی ادب سے بلا واسطہ واقت ہونا فرض ہے۔اعتراض نیچرل فلاسفی کے ڈاکٹر صاف صاف دکھلا سکتے ہیں کہ منی خصیے ہیں۔پیدا ہوتی ہو یہ بات غلط ہو کہ معنی باپ کی میٹھا اور ماں کے سینے میں ہو جیسے قرآن میں ہے۔جواب۔ہم کو نہایت تعجب آتا ہو جب ہم پادریوں کو نیچرل فلاسفی وغیرہ سائنٹیفک ہچکچاتی ہو کہ میدان میں نکل کر سائیس سے مقابلہ کرے۔پادری ڈی ڈبلیو ٹا میں (تشریح التثالیت صفحہ ۲۲) معما تثلیث کے حمل سمو عاجز آکر کیسے بے اختیار کہ اٹھے ہیں " خلقت دنیچر قانون الہی کے ی احوال سے استدلال اور عقلی دلائل اس میں چل نہیں سکتے۔اس کا ثبوت بہم کلام الہی مصطلحات بولتے سنتے ہیں۔انجیل اور فلاسفی انجیلی سیم تنش موقوف ہے۔“ نیچرل فلاسفی با بڑا لفظ بولا۔دوسرے مذہب پر اعتراض کرنے کیلئے تو بے اختیار یہ لفظ زبان سے نکلیگا۔اندرون خانہ تو امید ہے کہ ہی استعمال کرنیکا موقع آتا ہو گا۔پادری صاحب! نیچرل فلاسفی کے ڈاکٹر یوشع بن نون کی خاطر سورج کا کھڑا ہونا۔مردوں کا زندہ کرنا۔مجسم شخص کا آسمان پر چڑھ جانا۔بے بانکے لڑکا پیدا ہونا کو تسلیم کرتے ہیں۔پہلے انہیں ہی نیچرل فلاسفی کی کسوٹی پر کس لیا ہوتا۔اب حقیقی جواب دینے سے پہلے ایک دو باتوں کا ذکر کرنا مناسب معلوم ہوتا ہو۔پرست تا که قرآن مجید کی عظمت بخوبی واضح ہو جاوے۔شیخ سعدی ملک ایران میں پیدا ہوئے۔جس ملک کی نسبت مؤرخوں نے