فصل الخطاب لمقدمۃ اہل الکتاب — Page 147
۱۴۷ بہت نرم تھا۔اور حضرت داؤد کی سزا سے جس میں انہوں نے جیتے آدمی چلتے پزادوں میں جلائے۔اور پھر ہمیشہ خدا کے مطبع کہلائے۔نہایت نرم ہے۔غزوہ خیبر خرده خراب کا بیان گردی کا سلام من نم اور اب بی قایق اور تقی اور کنانہ اور ہودہ اور ابو عمار خیر سے قریش پاس پہنچے اور انکو اور عرب کے مختلف اقوام خطفان اور فزارہ کو مدینے پر چوٹ ہالائے۔پھر ابو رافع سلام بن کم ہو یہودیوں کا اس میں تھا اپنی ایسی حرکتوں و ماراگیا۔اور یہود نے اُسکے جا پہ اکسیر بن رزاہم یہودی کو اپنا امیر بنایا اور اس لئے امیر نے اپنی بڑائی کے لئے یہ تدبیر نکالی کہ خلفان قبیلے میں پہروں اور انکو ہمراہ لے کے اسلامیوں پر چڑ ہائی کروں۔اسی فکر میں تھا مصلح عالم کو خبر ہوگئی۔آپنے اپنا سفیر بھیجا۔اس نے جا کہ اس نئے امیر کو فہمائش کی اور ہمراہ لایا۔الا نئے امیر کو پھر ایک خبط سوجھا۔اور چاہا۔ان سفیروں کو مار ڈالے۔اس امر کی اطلاع پر عبد اللہ انیس نے اسیر کو مار ڈالا۔غرض اہل خیبر سے یہ معاملات صادر ہوتے رہے۔علاوہ بریں خیبر والوں سے بنو نضیرو بنو قینقاع جاملے تھے اُن کے شور فساد کرنے کے خیال سے آپ نے نیبر کا عزم کیا۔اور وہاں کی بجز صاف اسباب اور وجہ جنگ کو ظاہر کرتی ہے۔ات الأولى قد بغوا علينا ، إِذا أَرَادُوا فِتْنَةٌ أبيناء خیبر کی اور سب تو میں اسی سازش میں رہتی تھیں کہ مسلمانوں کی بیخ کنی کریں لیے اسلام نے اس بات کا تدارک یہ کیا کہ چودہ سو سپاہیوں کے ساتھ خیبر جلد یئے۔اول اسلام نے صلح کا پیغام بھیجا۔جب نجیبر یوں نے نہ مانا تب اُن پر حملہ کیا۔خیبر میں یہود کے بہت قلعے تھی لے تحقیق پہلی جماعت نے بغاوت کی ہیں جبکہ ارادہ کیا فتنہ باپوں ہمارے گا اللہ کہ وہ صحرائی قومیں اُن کے ساتھ متفق تھیں اور ہمیشہ ان لوگوں کی یہ حالت تھی۔لوٹ مار کی۔جب اُدھر سے حملہ ہوا۔جنگلوں میں بھاگ گئے۔۱۲ اے میرے نزدیک یہ لفظ آیا تا ہے ہم نے انکار کیا خمین