فصل الخطاب لمقدمۃ اہل الکتاب — Page 137
۱۳۷ مدینے کی رونق افروزی کے وقت عرب میں قسم کے لوگ تھے۔کھلے دشمن جیسے قریش اور اُنکے حلیف۔دو سے معاہدین جیسے یہود کے مختلف قبائل تیسرے منافق بظاہر اسلام کے ساتھ اور باطن گغار کے دوست۔عامتہ عرب میں بعض تو میں اسلام کی ترقی خواہ تھیں۔جیسے خزاعہ۔اور بعض دشمن کی فتح کے طالب جیسے بنو بکر اور بعض قومیں بالکل خاموش اور حیران تھیں۔آنحضرت نے مدینے میں پہنچتے ہی یہود سے ایک عہد کیا جس کا خلاصہ یہ ہے۔به فرمان حمد رسول الہ نے تمامسلمان کو خواہ وہ قاری ہوں خواہ اپل شیر دینے کا پرانا ہے) اور سب لوگوں کو چاہے کسی مذہب اور قوم کے ہوں جنہوں نے مسلمانوں سے صلح و آشتی رکھی ہے لکھدیا ہے صلح اور جنگ کی حالت میں سب مسلمانوں کے لئے عام ہوگی۔مامان و بی اختیار نہ ہوگا کہ ان برادران اسلام کے دشمنوں سے صلح با جنگ کریں ہو جو ہماری حکومت اسلامیہ سے تعلق رکھتے ہیں۔تمام ذلتوں اور اذیتوں سے بچائے جائینگے اور ہماری اُمت کے ساتھ مساوی حقوق انکو ہماری نصرت اور حمایت اور حسن سلوک کے حاصل رہینگے۔یہودان بنی عوف بنی نجار بنی حارث بن حسم بنی غالب بنی اوس اور سب ساکنان بیشتر مسلمانوں کے ساتھ ملکر ایک قوم سمجھے جائینگے۔اور وہ اپنے اعمال مذہبی کو ویسی اوریسی آزادی کے ساتھ بجالائینگے۔جیسے مسلمان اپنے رسومات دینی کو ادا کرتے ہیں۔یہود کی حفاظت اور حمایت میں جو لوگ ہیں یا جو اُن سے دوستی رکھتے ہیں۔انکو یہی تحفظ اور آزادی حاصل رہیگی۔مجرموں کا تعاقب کیا جائیگا اور انکو سزادی جائے گی۔یہود مسلمانوں کی شرکت شرب کو سب دشمنوں سے بچانے میں کرینگے۔اور تمام وہ لوگ جو فرمان کو قبول کرینگے۔یثرب میں محفوظ و مامون رہینگے مسلمانوں اور بیہود کے دوست آشنا کا کبھی ویسا ہی اعزاز کیا جائیگا۔جیسا خود اُن کا کیا جاویگا۔سب سچے مسلمان اس شخص سے بیزار رہیں گے جوکسی گناہ یا ظلم نا اتفاقی یا بغاوت کا