فصل الخطاب لمقدمۃ اہل الکتاب — Page 113
١١٣ غزوات محمدية سے زیادہ اُسے نہیں سمجھتے) ان دیندار پادریوں ہی سے پوچھو نہیں۔دیکھو یہی جنہوں انجیل کے خلاف فطرت تعلیم کے اثبات کا خواہ مخواہ ٹھیکہ لیا ہے۔انہیں حضرت معقول تنخواہ پر کہ کبھی خود بھی ان احکام پر پہلے ہیں۔افسوس صد افسوس اسلام اور قرآن پر اعتراض غزوات محمدية آنحضرت صلتم ایک ایسی قوم میں مبعوث ہوئے تھے جو ضلالت مجسم اور مبل مرکب تھی۔جسکے رسوم و عادات خبیث و وحشیانہ تھے۔جو جدال و قتال کو حاصل زندگانی سمجھتی تھی۔پہلے تو آنحضرت کی زجر و توبیخ پر اس جاہل قوم نے سخریہ کیا۔بعد اسکے اس قوم کو غیظ آیا اور خواہش انتقام پیدا ہوئی۔مگر تا ہم آپ کے اصحاب کی کثرت ہوتی گئی۔قریش کا غیظ و غضب عادة اس طرف متوجہ ہوا۔کہ دین جدید کے پیروؤں کو سخت تکلیف پہنچانی شروع کی۔بہت سے لوگ تیم رسول کے اشارے سے جو اُنکے مصائب کو دیکھنا گوارا نہیں کر سکتا تھا۔اپنے وطن مالوف کو چھوڑ کر ایک اجنبی ملک افریقہ کو نقل کر گئے۔مگر آپ اکیلے الہی امداد و توفیق کے سہارے پر اُسی وحشت انگیز خوفناک مقام میں ٹھہرے رہے۔کیونکہ اپنی قوم کی وحشیانہ اور الہی غضب کی مستوجب حالت آپکے رحیم وکریمہ تا ہے وہیں قیام کیلئے زبان حال سے فرمائیش کرتی تھی۔آپ قلباً آرزو مند تھے کہ گویا جان مخاطرے میں کیوں نہ پڑے۔پر اس نالائق قوم کو خدا کے رحم و فضل میں شامل کیا جاوے بحب قوم نے ذاتی تکالیف و شدائد قطعا آپ کے دل سے بھلا دیئے تھے کہ آپ اپنی پیاری میگر نا قدرشناس قوم کے گھر گھر تشریف لیجاتے اور بڑی شفقت و محبت سے انہیں فرماتے۔له ابن بہت م جلد اول صفحه ۱۱۰ - ۵۲ ابن ہشام جلد را صفحه ۱۳۸ -