فصل الخطاب لمقدمۃ اہل الکتاب

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 5 of 455

فصل الخطاب لمقدمۃ اہل الکتاب — Page 5

۵ بلکہ حضرت سج کے ذقے سے بھی غیر معبودوں کی پرستش کا الزام اُٹھایا اور فرمایا۔وقال المسيح يدى استراسل اعْبُدُوا اللهَ رَبّى وَرَتكم انه من يُشرك بال فَقَدْ حَرَّمَ اللهُ عَلَيْهِ الْجَنَّةَ وَمَاونهُ التَّارُ سُوره مائده۔سیپاره 1 رکوع ۱۰ - اور سیح کے عدم قتل کی نسبت دعوی کیا۔جس کا ثبوت ہماری اسی کتاب میں مختلف جگہ ملیگا۔اور جس کی صداقت پرسیح کی صداقت موقوف ہے۔ومَا قَتَلُوهُ وَمَا صَلَبُوهُ وَلكِنْ شُبَهَ لَهُمْ وَاِنَ اللَّذِينَ اخْتَلَفُوا فِيهِ لَفِي شَكٍّ مِنْهُ مَا لَهُمْ بِهِ مِنْ عِلْمٍ إِلَّا اتَّبَاعَ الظَّيْنَ، وَمَا قَتَلُوهُ يَقِيْنَا، سُوره نساء سیپاره رکوع - مگر یاد رہے۔عیسائیوں کے نزدیک سیح نے بنی اسرائیل کو اُن کے جانے ہوئے خدا کی طرف نہیں بلایا۔اور پھر مسیح بقول عیسائیوں کے مارے گئے۔جب سے صاف جانا جاتا ہے کہ وہ جھوٹے تھے۔پس اسے عیسائی صاحبان میری عرض یہ ہے۔تعالوا إلى كلمة سواء بيننا وبينكد قف إِلا نَعْبُدَ إِلا اللَّهَ وَلَا نُشْرِكَ بِهِم شَيْئًا وَ لا يَتَّخِذَ بَعْضُنَا بَعْضًا أَرْبَابًا مِنْ دُونِ اللَّهِ سُورة ال عمران - سيارة ك عیسائی صاحبان تمہارے طور پر تو حضرت مسیح کی صداقت ممکن ہی نہ تھی۔اور تورات کتاب استثنا سے بقول تمہارے بیج کی صاف تکذیب ہوتی تھی۔پر دیکھو اسلام کا ل او سیح نے کہا ہو کہ اے بنی اسرائیل بندگی کرو اللہ کی جوت ہے میرا اور تمہارا مقرر جس نے شریک کیا اتنا سو حرامہ کی اللہ نے اسپر جنت اور اس کا ٹھکانا دوزخ ہے کیا ے اور نہ اس کو مارا ہے اور نہ مصلوب کیا لیکن اُن کو اشتباہ ہوا۔اور جولوگ اس میں کئی باتیں نکالتے ہیں ؟ اس جگہ شبہے میں پڑے ہیں۔کچھ اُن کو اسکی خیر نہیں مگر انکل پر چلنا اور اسکو مارا نہیں بیشک سے اسے کتاب والو آؤ ایک سیدھی بات ہمارے تمہارے درمیان کی کہ بندگی نہ کریں راشد کو اور شریک براون اُس کی کوئی چیز اور نہ پکڑ یں آپس میں ایک ایک کو رب سوائے اللہ کے یا