فصل الخطاب لمقدمۃ اہل الکتاب — Page 3
حصل اول بسم الله الرحمن الرحیم آیات علامات نبوت محمد بن عبدالله بن الحيل بن ابراہیم صلوات الله وسلام علیهم اجمعین آیت اور علامت نبوت سے وہ آیت اور علامت نبوت مراد ہے جو نبوت کو لازمی اور نبوت سے غیر منفک ہو۔خاکسار نے عنوان میں بجائے لفظ آیت اور علامت کے جو مفرد ہو۔آیات اور علاقات جمع کے لفظ استعمال کئے ہیں۔میری غرض اس میں یہ ہے۔کہ جو جو نشان نبوت مختلف انبیاء علیہم السّلام میں پائے جاتے ہیں۔وہ تمام نشانات محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے واسطے ایک جیا موجود ہیں۔ایک ہی علامت نبوت جسے لوگ معجزہ کہتے ہیں۔آپکے لئے نہیں تھی بلکہ مجرات مع دیگر علامات آپ میں موجود تھے۔بعض لوگوں نے آیت کے معنی معجزے کے لئے ہیں۔مگر یاد رہے یہ معنی اصلی معنی آیت یا نشان یا علامت کی ایک شاخ ہیں۔کیونکہ اکیلا معجزہ یقینی دلیل نبوت کی نہیں ہو سکتا۔ول۔اس لئے کہ توریت استثنا ۱۳ باب ۱- ۵ میں لکھا ہو کہ اگر کوئی نبی یا خواب دیکھنے والا تم کو کوئی نشان یا معجزہ دکھلائے۔اور وہ بات جو اس نے دکھلائی واقع کے مطابق ہو۔پھر وہ نبی معجزات دکھلانے والا اگر ایسے معبودوں کی طرف بلائے جنہیں تم نے نہیں جانا۔اور کہے آؤ انکی بندگی کریں۔تو ایسے نہی کے کہنے پر کام مت معرفی