فصل الخطاب لمقدمۃ اہل الکتاب — Page 2
جواب لکھتا رہا۔مگر کوہستانی سفر میں کتب کی وقت رہی۔ادھر احباب نے مستورات کیے انے کی تاکید کی۔فرصت کہاں تھی جو ترتیب دیتا۔یا مکر نظر کرتا مطبع بھی نزدیک نہ تھا جو کائی دیکھتا۔الغرض جیسی ترتیب جلدی میں بن پڑی انکو چھپوا کر ہدیہ ناظرین کرتا ہوں۔اور میں اپنی کم مائیگی کا معترف ہوں۔چونکہ یہ میری پہلی تصنیف مناظرے میں ہو۔اگر اس میں کچھ تساہل ہو۔تو مہربان ناظرین مجھپر یہ احسان کریں کہ اطلاع دیں۔انشاء اللہ تعالی غلطی پر مصر نہ ہو گا۔رجوع کرنا میرے نزدیک بہت سہل ہے۔میں نے جو لکھا ہو نیک نیتی سے اپنے خیالات کے مطابق لکھا ہے۔میں نے الزامی جوابات بھی اس کتاب میں ضرور دئے ہیں۔جنیر میرے نوجوان محسن مولوی عبد الکریم کسی قدر خوش نہیں تھے۔الا مجھے دو امر باعث تحریر الزامی جوابات کے ہوئے۔اول مسیح نے فرمایا۔الزام مت لگاؤ۔تمپر الزام لگا یا جا ئیگا۔عجیب مت لگاؤ۔جس طرح تم عیب لگاتے ہو۔اسی طرح تمی عیب لگایا جا ئیگا۔متی ، باب ۲۔پس ہمارا الزامی جواب پادریوں کے الزام کے بعد سیے کی تصدیق ہے۔اگر ہم الزام کے بدلے الزام نہ لگاتے تو آپ کی تصدیق نہ ہوتی۔دوم- الزامی جواب میں یہ فائدہ ہوتا ہے کہ جب مخالف کو الزامی جواب ملتا ہے۔اُس وقت مخالف معترض کا دل اسلئے کہ اسپر الزام قائم ہوا۔جواب کی طرف متوجہ ہو جاتا ہے اور اسکا دل جواب لینے کو مستعد اور طیار بن جاتا ہو۔پھر جب حقیقی جواب ملا۔غالباً اس کا قلب بشر طیکہ راستی پسند ہو اس جواب کو قبول کرلیتا ہے۔علاوہ بریں مسیح کی عادت تھی الزامی جواب ضرور دیتے تھے۔شاید پادری اون کے طرز تعلیم کو پسند کریں۔اسلئے ہم نے بھی الزامی جوابوں سے دریغ نہ کیا۔وَاللهُ يَقُولُ الْحَقِّ وَهُوَ يَهْدِى السَّبِيلَ -