فصل الخطاب لمقدمۃ اہل الکتاب

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 80 of 455

فصل الخطاب لمقدمۃ اہل الکتاب — Page 80

A۔انا ارسلت اليكم سُولاً شَاهِدًا عَلَيْكُمْ كَمَا أَرْسَلْنا إلى فِرْعَوْنَ رَسُتون فَعَطَى فِرْعَوْنَ الرَّسُولَ فَأَخَذَ نَاهُ أَخَذ او بيلا - سوره مزمل - پاره ۲۹ - اور آرام کا وعدہ وَعَدَ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا مِنْكُمْ وَعَمِلُوا الصَّلِحَتِ لَيَسْتَخْلِفَنَّهُمْ في الأرض - سوره نور سیپاره ۱۸ رکوع ۱۳ پھر اپنے وعدے کو سچ کر دکھاتا ہے۔مدعی نبوت سے ایسی کامیابی بے نظیر اور خرق عادت نہیں تو اور کیا ہے۔تیسرا معجزه یا خرق عادت۔بلکہ آیت نبوت۔إنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِكرَ وَإِنَّا لَهُ لَحَافِظُونَ - سوره حجر - سیپاره ۱۴- رکوع ۱ - کس طرح قرآن کی حفاظت ہوئی۔دنیا میں کوئی مذہب دکھاؤ جس کی کتاب اپنے ہادی کی زبان میں بعنیہ اس طرح شہرت پذیر ہو۔تراجم کا اعتبار نہیں۔تراجم مترجمین کے خیالات ہیں۔انجیل کی تو ایسی حفاظت ہوئی۔کہ الامان انجیل کی حالت ناگفتہ بہ ہے۔آجتک پتہ نہیں لگتا مسیح کی اصل کتاب عبیری تھی یا یونانی پھر انکا کلام بالکل حواریوں کے کلام سے مخلوط ہے ممتاز نہیں۔وید کی حالت شب و روز آنکھ کے سامنے ہو۔حاجت بیان نہیں پھر علی العموم تلاوت سے محروم ہیں۔اگر دنیا بنصرت الہی کسی مذہبی کتاب کی حافظ و ناصر ہے تو قرآن کریم لے ہم نے بھی ھاتمہاری طرف رسول بتانے والا تمہارا۔جیسے بھیجا فرعون پاس رسول۔پس کہا نہ مانا فرعون نے رسول کا۔پھر پکڑی ہم نے اُس کو پکڑو بال کی ۱۳ ہلے وعدہ دیا اللہ نے جو لوگ تم میں ایمان لائے ہیں اور کئے ہیں نیک کام البتہ پیچھے اُن کو حاکم کردے گا ہوا پادری ٹھا کر د اس کو اس آیت میں مینکم کا لفظ یاد نہیں رہا۔اور نہ وہ سمجھے کہ الارض معرفہ معرف با سلام ہے۔یعنی ارض موجود اور مقدر کے و عرب و کنعان کی زمین۔دیکھو اس کا رسالہ لے کر امت ۱۲ سے ہم نے آپ آبادی ہے یہ نصیحت اور ہم آپ اس کے نگہبان ہیں۔تیسر العجزة