فصل الخطاب لمقدمۃ اہل الکتاب — Page 66
۶۶ سوم۔کل دنیا میں مندرین کا آنا تسلیم فرمایا۔اور انصاف سحر مذاہب پر کلی انکار نہیں کیا۔بلکہ تمام انبیا ورسل پر یقین کرنا۔اور انپر ایمان لانا بنایا اور فرمایا۔دو ان مِنْ أُمَّة الأَخَلَا فِيهَا نَذیر - سوره فاطر - سیپاره ۲۲ - والَّذِينَ يُؤْمِنُونَ بِمَا نُزِلَ إِلَيْكَ وَمَا أُنْزِلَ مِنْ قَبْلِكَ وَبِالْآخِرَةِ هُمْ يُوقِنُونَ أولياكَ عَلَى هُدًى مِّن رَّبِّهِمْ وَأُولئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ - سوره بقر سيپاره ۱- رکوع ۱ - چهارم کسی نبی کی نسبت طعن نہیں کیا انہی کی تعلیم پر کہیں بھی نکتہ چینی نہیں کی ایک نصائح کو بدون طحن تشنیع بیان کیا ہے۔مطاعن بیان کرنے میں بالکل سکوت فرمایا۔یہود اور عیسائیوں کو فرما سکتے تھے۔تم کن لوگوں کے تابع ہو۔لوط اور یعقوب۔داؤود اور سلیمان حسب کتب عہد عقیق کیے تھے۔بلہ تمام بزرگان یہود اور مسیح کی عظمت بیان کی۔برائے نام بھی ان کے مطاعن کا تذکرہ نہ فرمایا۔بڑی مدح سرائیاں کیں۔عیسائیوں آریوں یہودیوں کی عادت ہے کسی کی مذہبی خوبیوں سے چشم پوشی کر کے اسکے مطاعن بیان کرنے پر اکتفا کرتے ہیں۔عیسائیوں کی مقدسہ کتب میں ایسے ایسے خطرناک حالات انبیا کے مندرج ہیں جن کے پڑھنے سے ان بزرگوں کے چال چلن پر حرف آتا ہو۔اور پھر جب قائل کی حقارت ثابت ہوتی ہو تو اسکے کلمات کی عظمت خاک بھی نہیں رہتی۔مقدس کتابوں میں اگر لکھا ہو کہ فلا شخص حسب عام رائے ہمعصروں کے شرابی اور کھاؤ اور بدکاروں کا دوست تھا۔تو ایسے شخص کی تعلیم پر کیا توجہ ہوگی۔پنجو علم کی ترقی پر بڑی ترغیب دی۔انَّمَا يَخْشَى اللَّهُ مِنْ عِبَادِهِ الْعُلَماء - سوره فاطر سیپاره ۲۲ رکوع ۱۵ ے کوئی بھی گروہ نہیں مگر اُن میں نذیر گذر ہے۔(انتہ۔معلم خیر ) ۱۲ اور جو یقین کرتے ہیں۔جو کچھ اترا تجھ پر اور جو اترا تجھ سے پہلے اور آخرت کو وہ یقین جانتے ہیں۔انہوں نے پائی راہ اپنے رب کی۔اور دیہی مراد کو پہنچے۔۱۲ ہ اللہ کے بندوں میں سے اللہ سے علم والے ہی ڈرتے ہیں "