فصل الخطاب لمقدمۃ اہل الکتاب

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 59 of 455

فصل الخطاب لمقدمۃ اہل الکتاب — Page 59

۵۹ فلا تَعْضُلُوهُنَّ أَنْ يَنْكَحْنَ أَزْوَاجَهُنَّ - سوره بقر - سیپاره ۲ - سوچو تو صحیح نکاح میں طرفین کی رضا مندی اور باہمی پسندیدگی جیسے آیت فانکی وال مَا طَابَ لَكُم - اور حدیث عقبہ بن عامر سے ثابت ہے۔نه صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِرَجُلٍ أَتَرْضَى أَنْ أَزْوَجُكَ فَلَانَةً قَالَ نَعَمْ وَقَالَ لِلْمَرْأَةِ أَتَرْضَيْنَ أَنْ أَزَوْجُكَ فَلَانَا قَالَتْ نَعَمْ - فَزَوَجَ احَدُهُمَا صَاحِبَہ اور طرفین کے اولیا اور اقارب کی رضا مندی جو حدیث۔نكاح الأبولي وَشَاهِدَ کے عدل - احمد دار قطنی بہقی نے روایت کی تاب ہے۔اور پھر اگر خاوند کوئی بد سلوکی کرے یا کہیں پیغبر ہو کر چلا جاوے۔یا ایسے امراض اور اسباب میں گرفتار ہو جاوے جب سے عورت کو ضرور ہو۔تو اسپر فرمایا۔ولا تُمْسِكُوهُنَّ مِرَارًا وَلا تُضَارُ وهُنَّ - سوره طلاق سیپاره ۲۸ ما جَعَلَ عَلَيْكُمْ فِي الدِّينِ مِنْ حَرَج - سوره حج - سیپاره ۱۷ - جو کوئی خدا سے ڈرے شرعی احکام پر پابند ہو۔اور آیات متذکرہ بالا پر عمل کرے۔اُسے کوئی تکلیف نہیں۔من يَتَّقِ اللهَ يَجْعَل لَّهُ مَخْرَجًا سُوره طلاق سیپاره ۲۸ - ربے موقع نہ ہو) پادری صاحب کی ایک اور اعتراض اسوقت سامنے آگیا۔فرماتے ہیں۔ے تو اب نہرو کو انکو کہ نکاح کر لیں اپنے خاوندوں سے " سے یعنی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص سے پوچھا کہ آیا تو راضی ہو اسپر کہ تیرا نکاح فلاں غور کیے تھے کیا دوں۔اُس نے کہا ہاں۔پھر آپنے ایک نور سے فرمایا کہ آیا تو راضی ہوا اسپر کہ تیرا نکاح فلاں مرد کے ساتھ کرا دوں۔اُس نے عرض کیا ہاں۔پس آپنے ان دونوں کا نکاح کر دیا۔سے یعنی بغیر دو گواہ عادل اور ولایت ولی کے نکاح صحیح کامل نہیں ہوتا یا ہے اور مت بند کرو اُنکے سنانے کو ۱۲ اور ایذا نہ پہنچاؤ انکو یا نہیں رکھی تیر دین میں کچھ مشکل کیا ہے اور جو کوئی ڈرتا ہو ان سے وہ کر دیتا ہو اسکا گذاشت