فصل الخطاب لمقدمۃ اہل الکتاب — Page 53
۵۳ کی تکمیل کرتا ہے اور کہتا ہے۔وَاعْبُدُ والله ولا تُشْرِكُوا بِهِ شَيْئًا وَ بِالْوَا لَدَيْنِ إِحْسَانًا وَبِذِي الْقُرْبى والتقى وَالْمَسَاكِينِ وَالْجَارِ ذِي القربى والجَارِ الْجُنبِ وَالصَّاحِب بالجنب وَابْنِ السَّبِيلِ وَمَا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ سُوره نساء - سیپاره ۵ - ناظرین! ذرا سوچو۔جن لوگوں کو قرآن نے پڑوسی سے مقدم کیا ہو۔وہ تقدیم کے قابل ہیں یا نہیں۔قانون ازدواج میں اول تبتل کو منع فرمایا۔پھر کثرت ازدواج کو جو نامه ایشیا کے مقدسوں اور شرف اور عوام میں مروج تھا۔اس کو اخلاقی خوبی پر رکھکر محدود کیا۔و انكحوا الا يا طي مِنْكُم وَالصَّالِحِينَ مِنْ عِبَادِكُمْ وَ إِمَائِكُمْ إِن تَكُونُوا فقر او يُعيهُمُ اللهُ مِنْ فَضْلِهِ سُوره نور - سیپاره ۱۸۔ما نكحوا مَا طَابَ لَكُم مِّنَ النِّسَاءِ مَثْنَى وَثُلَثَ وَرُبَاعَ فَإِنْ خِفْتُمْ أَلَّا تَعْدِلُوا فَوَاحِدَةً - سوره نساء - سیپاره ۴ - غرض عدالت کی اخلاقی شرط لگا کر بیجا کثرت ازدواج کو روک دیا۔گو کثرت ازدواج لحاظ قانون قدرت حرام نہیں۔اور میں دلیری سے کہتا ہوں۔توریت اور انجیل اور وید میں کثرت ازدواج کی نسبت صریح ممانعت کیا اتنی تحدید بھی نہیں۔بلکہ ابراہیم جو کامل و راستباز اور تمام یہود اور نصاری اور اہل اسلام کا مورث اعلیٰ گذرا جو کچھ کثرت ازدواج کا نمونہ دکھا گیا۔کتب مقدسہ کے دیکھنے والوں سے مخفی نہیں۔اے اور بندگی کرواللہکی اور ملاؤ مت اُسکے ساتھ کسی کو۔اور ماں باپ سے نیکی کرو اور قرابت والے سے اور یتیموں سے اور فقیروں سے اور ہمسائے قریب سے اور ہمسائے اجنبی سے۔اور برابر کے رفیق سے اور راہ کے مسافر سے اور ہاتھ کے مال سے یہ اور بیاہ دور انڈوں کواپنے اندر اور بونی ہو اسلام انڈیا گروہ ہو تاکوتی کردیگا۔پی نکاح کرو جو تم کو خوش آمین عورتیں دو دو تین تین چار چار پھراگر ڈرو کہ برابر رکھو گے تو ایک ہے "