فصل الخطاب لمقدمۃ اہل الکتاب — Page 396
494 عادل ہونا ثابت کرو۔الزامي جواب متی ۲۱ باب ۲۳ - ۲۲ مسیح سے کو بہنوں اور بزرگوں نے پوچھا " تو کس اختیار سے یہ کرتا ہے اور کس نے تجھے یہ اختیار دیا مسیح نے کہا۔میں بھی تم سے ایک بات پوچھتا ہوں اگر وہ مجھ سے کہو تو میں بھی تم سے کہونگا " سوئیں بھی بطور سیح تم سے پوچھتا ہوں۔بتاؤ شیطان بھی گنہگار ہو۔یہودا اکر لوطی بھی برینی مسیح کو پکڑوایا گنہگار ہے۔اور کا نا جس نے مسیح کے قتل کا فتوی دیا گنہگار ہیں۔اب بتائیے بے سزا پائے بہشت میں کیونکر داخل ہوں گے۔تمام بت پرست قومیں اور تمام منکرین سیح کیا ہے سزا جنتی ہیں۔جس دولتمند نے دوزخ میں ابراہیم سے عرض کی کہ احاذر کو بھیج پانی سے میری زبان ٹھنڈی کرے۔(لوقا ۱۹ باب ۲۲۳۲) کیا وہ گنہگار ہے سزا پائے جاودانی آرام میں داخل ہوا۔اب آپ لوگ ان تمام مثالوں میں اپنی انجیل سے جس کے معنی بشارت ہیں رحم و عدل کو جمع کر دیں۔شیطان کی نجات کا ذریعہ انجیل سے نکال دیں۔اگر صرف رحم اس طرح باعث نجات ہو کہ اعمال یا ایمیان نہ ہو اور بد کار نجات پاد تو چھٹی ہوئی۔بقول معترض مسیح ملعون ہوا۔پادریوں کو کیوں منادی کی فکر ہے۔اور ہم مسلمان تو ضرور ہی نجات پا دینگے۔کیونکہ بقول (لوقا باب ۵۰ جو مسیح کے خلاف نہیں کو مسی کی پیروی نہیں کرتا وہ مسیح کی طرف ہے" ہم مسلمان تو حضرت مسیح کے بچے پیرو ہیں۔ان کو دل سے مانتے ہیں اور اُن کی سب سے اعلیٰ اور آخری وصیت پر دل سے کاربند ہیں۔جو بعضا ، باب ۲ میں مذکور ہو۔میں صدق دل سے اصالتا اور تمام اہل اسلام کی طرف سے وکالتا اقرار کرتا ہوں کہ