فصل الخطاب لمقدمۃ اہل الکتاب — Page 395
۳۹۵ سوال کوئی گنہگار گنہگار کو بہشت میں داخل نہیں کر سکتا۔اور قرآن و حدیث سے ثابت ہو نا ہو کہ محمد صاحب خود گنہگار ہیں۔اسلئے وہ اس لائق نہیں کہ وہ شفاعت صغرنی اور کبری کرنے کا اختیار پاویں۔بلکہ سات آشکارا ہر کہ وہ خود بھی نجات نہ پائینگے۔جواب نجات اور بہشت میں پہنچنے کی راہ اور اس کا طریقہ بیان کر چکا ہوں کہ نجات فضل سر ہے۔اور فضل ایمان کے وسیلے سے مل سکتا ہے اور ایمان نیک اعمال کا بیج ہے۔الا آپ کا یہ فقرہ کہ گنہ گار گنہگار کو بہشت میں نہیں پہنچا سکتا۔کیا کوئی الہامی کلام ہے یا عہد عقیق یا عہد جدید کا حکم ہے۔کیا روح القدس سے نکلا۔نہیں نہیں۔بلکہ آپ کا خیال ہو یا آپکی عقل کی تجویز- یہ فقرہ نہ تو کلام الہی ہے نہ روح القدس کی تحریر۔اور آپ کے خیالات اور تجاویز سے واقعات نفس الامریہ کا ابطال محال ہے۔آپ کو اگر اپنی عقل پر کچھ بھروسا ہو تو اسے پہلے تثلیث کے مسئلے پر اور کفارے کے خیال پر پر کچھ لیجئے اور دیکھئے۔کارگر ہو یا نہیں۔پھر کتب اللہ میں سے مقدسہ کتب پر نظر کیجئے۔جن میں صاف لکھا ہو کہ ابراہیم۔ایوب اور موسی اور ایڈیا اور سموئیل۔دانیال - با اینکہ سب کے سب عیسائی اعتقاد کے موافق گنہگار ہیں۔کیونکہ شفیع ہوئے۔دیکھو یرمیاہ باب ۱ - زبور ۹۹ باب ۶ - حز قیل ۱۴ باب -۱۴ پیدایش ۱۸ باب -۲۳ خروج در باب ۸ و ۳۰-۱۴ باب ۱۸ و ۱۹ - شفاعت ایک قسم کی دُعا ہو اور دعا کا موثر ہونا کل مذاہب تاریخیہ میں مسلم اور دعا کے لئے یا دعا کی قبولیت کے لئے گناہوں سے پاک ہونا ہرگز ہرگز شرط نہیں۔سوال لفظی معانی قرآن سے ثابت کرو۔خدا کے عدل و رحم میں بھی فرق نہ آوے اور گنہ گار بے سزا پائے بہشت کا جاودانی آرام پائے۔قرآن کے لفظوں سے خدا کا قدوس رحیم و