فصل الخطاب لمقدمۃ اہل الکتاب — Page 377
ام اُس میں یہ خوبی ہے کہ اہل اسلام ان خرابیوں سے محفوظ رہے ہیں۔جو اس لڑائی جھگڑے میں یہ کہ سے پیدا ہوتی تھیں۔جو عید مائیوں میں نماز کی ترکیب پر ہمیشہ ہوا کرتے تھے۔اور پھر ہر مسلمان کو گنجائش رہی کہ یکمال خشوع و خضوع عبادت خدا میں مصروقت ہوتے۔پابندی اوقات میں ایک قدرتی تاثیر ہو کہ وقت معینہ کے آنے پر قلب انسانی پر بے اختیا جذب و میلان اُس ڈیوٹی کے ادا کرنے کے لئے پیدا ہو جاتا ہے۔اور روحانی قومی اُس مفروض عمل کی طرف طلوعا و کرنا منجذب ہو جاتے ہیں۔جونہی اس غیر مصنوعی ناقوس (اذان) کی آواز سنائی دیتی ہے ایک دیندار مسلمان فی الفور اس ایکٹریسیٹی کے عمل سے متاثر ہو جاتا ہے۔پابند صوم صلوۃ گویا ہر وقت نماز ہی میں رہتا ہے۔کیونکہ ایک نماز کے ادا کرنے کے بعد معا دوسری نماز کی طیاری اور فکر ہو جاتی ہے۔نماز پنجگانہ کا باجماعت پڑھنا۔اور جمعہ وعیدین کی اقامت جس حکمت کے اصول پر مبنی ہیں انتظامات ملکی کا دقیقہ شناس اُسکی خوبی سے انکار نہیں کر سکتا۔ہزاروں برسول کے دور کے بعد جو دنیا نے ترقی کی۔اور چاروں طرف غلغلہ تہذیب بلند ہوا۔اس سے بڑھکر اور کوئی تجویز کسی کی عقل میں نہ آئی۔کہ گلب بنائے جائیں۔انجمنیں منعقد ہوں۔اور وقت کی ضروریات کے موافق قوم کو بیدار کر نیوالی تقریریں کھائیں لیکن ظاہر ہے۔کہ با اینہمہ ترقی علوم ایسی انجمنوں کے قیام و استحکام میں کسقدر وقتیں واقع ہوتی ہیں۔گر مبار کی ہو اس افضل الرسل خاتم الرسالۃ کو کہ اس نے کیسے وقت میں کیسی انجمنیں قائم کیں۔اُنکے قیام واستحکام کے کیا کیا طریقے نکالے۔جنہیں کوئی مزاحم کوئی مانع توڑ نہیں سکتا۔اعضائے انجمن کے اجتماع کے لئے ٹکٹ جاری کیئے جاتے ہیں۔اشتہار چھاہے جاتے ہیں۔اس الہی طریق میں وقت معین پر اذان دی جاتی ہے۔ہو اس پاک انجمن (مسجد) میں۔پہنچائے بغیر چھوڑ ہی نہیں سکتی۔۔۔۔۔تنقيد الكلام ترجمہ لائف آف محمد - بانی سید امیر علی ۱۲ -