فصل الخطاب لمقدمۃ اہل الکتاب

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 376 of 455

فصل الخطاب لمقدمۃ اہل الکتاب — Page 376

حقیقت اُن کی سمجھ میں آنے لگی۔کہ نماز انسان کے لئے بارگاہ الہی سے تقریب کا وسیلہ ہے۔گریم ناکہ شریعت موسوی میں کوئی خاص قائد و نماز کا مقرر نہ تھا۔اہذا روایت اور رواج پر مدار رہا۔اور بقول ڈالنجر صاحب کے یہود بھی ایک نماز گذار قوم ہو گئے۔اور ہر روز تین گھنٹے عبادت خدا کے قرار دیئے گئے۔یعنی نو بجے اور بارہ بجے اور تین بجے۔مگر چونکہ نماز میں اور مجتہدین کی ضرورت تھی۔اور اس کا علم قطعی نہ تھا۔کہ خود حضرت موسی کیونکہ نماز پڑھتے تھے لہذا اکثر اوقات یہود کی نماز صرف ایک مصنوعی فعل ہوتا تھا۔حضرت مسیح نے جو آخری رسول یہود کے تھے۔اور اُنکے حوار مین نے بھی عبادت کی تاکید کی۔مگر افسوس اُس میں بھی یہ نقص رہ گیا کہ کوئی محدود و معتی قاعدہ نماز کا انہوں نے ترتیب نہ دیا۔اسلئے چند عرصے کے بعد عبادت خدا کا معاملہ بالکل عوام الناس کی رائے پر موقوف ہو گیا۔اور پادریوں ہی کے اختیار میں رہا۔جنہوں نے نماز کی تعداد اور مدت اور الفاظ وغیرہ مقرر کرنا اپنے ہی فرقے میں منحصر کر دیا۔اسی وجہ سے دُعاؤں کی کتابیں تصنیف ہوئیں اور تقسیسین کی کمیٹیاں اور مجلسیں منعقد ہوئیں تاکہ اصول دین اور ارکان ایمان مقرر کریں۔اور اسی وجہ سے راہبوں نے عجیب پر تکلف طریقہ عبادت کا نکالا۔اور گرہوں میں ہفتہ وارنماز قرار دی گئی۔یعنی چھ روز کی غذائے رومانی نہ ملنے کی مکافات صرف ایک روز کی نماز سے کی گئی۔الغرض یہ سب خرابیاں منتہی درجے کو پنچ گئیں کہ ساتویں صدی عیسوی میں رسول عربی نے ایک مہذب اور معقول مذہب تلقین کرنا شروع کیا۔آنحضرت نے نماز پنجگانہ کا طریقہ اسلئے جاری کیا کہ آپ خوب جانتے تھے کہ انسان کی روح حق سبحانہ و تعالیٰ کی حمد وستائیش کرنے کی کیسی مشتاق رہتی ہے۔اور نماز کے اوقات مقرر کر دینے سے آپنے ایک ایسا مضبوط قاعدہ نماز گذاری کا معین کردیا۔کہ نماز کے وقت انسان کا دل عالم روحانی سے عالمہ مادی کی طرف ہرگز متوجہ نہیں عالم - ہو سکتا۔جو صورت اور ترکیب آپ نے نماز کی اپنے قول و فعل سے مقرر کر دی ہے