فصل الخطاب لمقدمۃ اہل الکتاب — Page 351
۳۵۱ وقَالُوا لَن تَمَسَّنَا النَّارُ إِلا أَيَا مَا مَعْدُودَةً ، قُلْ اتَّخَذْتُمْ عِنْدَ اللهِ عَهْدًا فَلَن تُخْلِفَ اللهُ عَهْدَةُ امْ تَقُولُونَ عَلَى اللهِ مَا لَا تَعْلَمُونَ عَلَى مَنْ كَسَبَ سَيِّئَةً وَ أحَاطَتْ بِهِ خَطِيئَتُهُ فَأُولئِكَ أَصْحَبُ النَّارِ هُمْ فِيهَا خَلِدُونَ ، سیپاره 1 - سورة البقى - رکوع ۹- اسی لیے فرقے یہود کے خلوت نشین اور حتی سنتی مینگلوں میں وحشیانہ زندگی بسر کرتے تھے اور عیسائی پوپوں کی طرح خداد اد انعامات سے محروم تھے۔اس بیجا تشدد کو آیت ورهبانية بِابْتَدَعُوهَا مَا كتبتها عليهم - سیپاره ۲۷ - سورة الحديد - رکوع فرما کر مٹادیا۔اور قدرتی انعامات سے متمتع ہونے کے لئے آیہ لوا مِنَ الطَّيِّبَاتِ وَاعْمَلُوا صَالحه سياره ١٨- سوره مؤمنون رکوخ قُلْ مَن حَرَمَ زِينَةَ اللَّهِ الَّتِي أَخْرَجَ لِعِبَادِهِ وَ الطَّبَتِ مِنَ الرِّزْقِ سياره، سوره اعضا - كوكي کا فرمان راحت عنوان جاری فرمایا۔پھر یہود نے حضرت مسیح جیسے منجی اور ہادی کا انکار کیا۔اور پرلے درجے کی بے دینی سے انکی جناب میں نامناسب کلمات کہے۔بلکہ اپنی نادانی سے نیچے مسیح کو چھوڑ کر وہی مسیح کے منتظر ہو گئے۔اور قرآن نے یہود کو بتلا دیا۔کہ مسیح آچکے۔اور ہزاروں یہودوں کو منوا دیا۔اور انپر جنہوں نے انکار کیا الزام کو کامل کر دیا۔ایسے مدعی کے لئے جو آپ حکم نہ دے سکے۔اپنے مدعا علیہ کے عزم کرنے کے لئے صاحب حکم کی ضرورت اور کہتے ہیں ہم کو آگ نہ لگے گی۔مگر کئی دن گنتی کے۔تو کہ کیا لے چکےہو اللہ کے یہاں سے قرار تو اللہ قلات کہ یا الہ اپنا اقرار یا جوڑتے ہو اللہ پر جو معلوم نہیں رکھتے کیوں نہیں جس نے کما یا گناہ اور گھیر لیا اس کو اُس کے گناہ نے سوڈیسی ہیں لوگ دوزخ کے۔اسی میں رہیں گے ۱۲ - اور ایک دنیا چھوڑ نا انہوں نے نیا نکالا۔ہم نے نہیں لکھا تھا یہ اُن پر ۱۲۔اے لوگو کھاؤ تھری چیزیں اور کام کر د بھلا ۱۳ - ہے تو ہر کر نے منع کی ہے روفی اللہ کی جو پیدا کی اس نے اپنے بندوں کے واسطے اور ستھری چیزیں کھانے کی۔