فصل الخطاب لمقدمۃ اہل الکتاب — Page 350
۳۵۰ سے معدوم کر گئی۔دریا ان آیات کی پر تاثیر آواز تھی جس نے دھر کے دم میں انکے کاٹے پلٹ دیئے۔اعْتَصِمُ والحَبْلِ اللهِ جَمِيعًاوَ لَا تَفَى قُوا وَاذْكُرُوا نِعْمَةَ اللَّهِ عَلَيْكُمْ إِذْكُنْتُمْ أَعْدَاء فَأَلْفَ بَيْنَ قُلُوبِكُمْ فَأَصْبَحْتُمْ بِنِعْمَتِهِ إِخْوَانًا وَكُنتُمْ عَلَى شُفَا حُفْرَةٍ مِنَ النَّارِ فَأَنْقَذَ كُمُ منها سیپاره ۴ - سوره آل عمران - رکوع ۱۱ - تیسری ضرورت كانَ النَّاسُ امَةً وَاحِدَةً تَن فَبَعَتَ اللهُ النَّبِيِّينَ مُبَشِّرِينَ وَمُنْذِرِينَ مَ وَأَنزَلَ مَعَهُمُ الكتب بِالْحَقِّ لِيَحْكُم بَيْنَ النَّاسِ فِيمَا اخْتَلَفُوا فيهِ - سیپاره ۲ - سوره بقره - رکوع - ان هذا القُرآنَ يَقُصُّ عَلَى بَنِي إِسْرَائِيلَ أَكْثَرَ الَّذِي هُمُ فِيْهِ يَخْتَلِفُونَ۔سیپاره ۲۰ - سوره نمل - رکوع ۶۔ان آیات میں قرآن نے ظاہر کیا ہے کہ جب بڑے بڑے دینی اور نہایت ضروری امور میں لوگوں کا اختلاف پڑ جاتا ہے۔تو اس وقت خدا کی طرف سر اختلاف مٹانیوالی کتاب نازل ہوتی ہے۔یہود میں فریسیوں کا اعتقاد تھاکہ وہ ابراہیم کی راستیاز کی سے راستباز ٹھہر کر نجات پاویں گے۔قرآن نے بتا دیا۔ے اور مضبوط پکڑو رتی اللہ کی دین اسلام سب ملکر اور پھوٹ نہ ڈالو۔اور یاد کر و احسان اللہ کا اپنے اوپر جب تھے تم آپس میں دشمن۔پھر اگفت دی تمہارے دلوں میں۔اب ہو گئے اس کے فضل سے بھائی۔اور تھے تم کنارے پر ایک آگ کے گڑھے کے پھر تم کو خلاص کیا اس سے ۱۲۔لوگوں کا دین ایک تھا۔پھر بھی اللہ نے نبی خوشی اور ڈر سنانے والے اور آتاری اُن کے ساتھ کتاب سیتی که فیصل کرے لوگوں میں جس بات میں جھگڑا کریں ۱۷- سے یہ قرآن سُناتا ہے بنی اسرائیل کو اکثر چیز جس میں دے پھوٹ رہے ہیں ۱۲۔